’نیٹو سپلائی،ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں کیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ حکومت نے نیٹو سپلائی بحال کرنے کے بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

جمعہ کو لاہور میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ نیٹو سپلائی پر نیشنل سکیورٹی کونسل اور پارلیمانی کمیٹی نے اپنی سفارشات مرتب کر کے حکومت کو دے دیں ہیں اور انہوں نے یہ سفارشات دفاعی کمیٹی کو بھجوا دیں ہیں۔

اس موقع پر مسلم لیگ قاف کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین بھی وزیراعظم گیلانی کے ہمراہ موجود تھے۔

لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق شگاگو کانفرنس کے بارے میں وزیراعظم گیلانی نے کہا صدر پاکستان آصف علی زرداری کو کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہوا ہے اور اس میں شرکت کے لیے نیٹو سپلائی کی بحالی سمیت کسی قسم کی کوئی شرط نہیں ہے۔

دفاعی کمیٹی اور کابینہ نے اس دعوت نامے کو خوش آمدید کہا ہے اور صدر سے کہا ہے کہ وہ پاکستان کی نمائندگی کریں۔

سید یوسف رضا گیلانی سے ان کے مستعفی ہونے کے اپوزیشن کے مطالبے کے بارے میں پوچھا گیاتو انہوں نے کہا جواب دیا کہ وہ اپنے اتحادیوں جو کہ ان کے دوست بھی ہیں ان کی ووٹ کی طاقت کے ذریعے وزیراعظم ہیں اور وہ آئینی طور پر وزیراعظم ہیں اور جب تک انہیں پارلیمنٹ کی تائید حاصل ہے وہ وزیراعظم رہیں گے۔’ کسی کے کہنے سے نہ کوئی آیا ہے نہ کوئی جائے گا۔‘

وزیراعظم نے کہا کہ جمہوری طریقہ سے انہیں کوئی نہیں ہٹا سکتا غیر جمہوری انداز میں پہلے بھی حکومتیں ہٹائی جاتی رہی ہیں اور اس کا اب ملک متحمل نہیں ہو سکتا۔

ان کے بقول انہیں جمہوری انداز سے ہٹانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ان کے خلاف عدم اعتماد کیا جائے اور اگر ایسا کیا گیا تو وہ ایک بہادری اور ہمت والا کام ہو گا اور اگر اپوزیشن حکومت سے نجات چاہتی ہے تو عدم اعتماد کا ان کے پاس اختیار ہے وہ یہ کر سکتے ہیں۔

سید یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ وہ زمانے گئے جب اٹھاون ٹو بی کے اختیارات صدر کے پاس ہوتے تھے اور وہ ایک آئینی جمہوری حکومت کو اٹھاون ٹو بی کے ذریعے ختم کر دیتا تھا اب یہ اختیارات پارلیمنٹ کے پاس ہیں اور اب صرف جمہوری انداز ہی چل سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب سازش کے ذریعے حکومتیں جاتی ہیں تو ملک کو نقصان ہوتا ہے۔

ایک سوال پر جب وزیراعظم سے پوچھا گیا کہ عدالت کے ذریعے ہٹانا جمہوری طریقہ ہے تا غیر جمہوری ؟ تو اس پر انہوں نے کہا کہ عدالت کے فیصلے میں کہیں یہ ذکر نہیں کیا گیا کہ وہ نااہل ہیں۔

بقول وزیراعظم کہ ان پر کوئی اخلاقی جرم نہیں ہے اور نہ ان پر کرپشن کا کوئی الزام ہے بلکہ انہوں نے قانون اور آئین کی پاسداری کی ہے اور اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ آئین کا تحفظ ایک جرم ہے تو وہ اس کو جرم نہیں سمجھتے۔

بجٹ کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کی پہلی جمہوری حکومت ہے جو پانچواں بجٹ پیش کرے گی اور اس کی پاکستان میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ یا سیاسی جماعتیں بجٹ پر تنقید کریں گی لیکن انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آئندہ بجٹ میں ان کی چار ترجیحات ہوں گی۔ پہلی ترجیح بجلی کی ہے دوسری روزگار کی ہےجس میں ایک لاکھ نوکریاں دی جائیں گی اور اس کو ممکن بنانے کے لیے انہوں نے وزارت خزانہ کو ہدایات جاری کر دیں ہیں، تیسری ترجیح یہ کہ کوئی نیا ٹیکس نہیں لگے گا اور چوتھی یہ کہ وہ لوگوں کو زراعت کے شعبے میں ریلیف دیں گے جبکہ شہر کی آبادیوں کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے ریلیف دیا جائے گا۔

پاکستان مسلم لیگ نون کے حکومت مخالف لانگ مارچ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کون کرے گا اور کس کے خلاف کرے گا اس وقت تو سب حکومت میں ہیں۔ اس وقت مسلم لیگ نون بھی حکومت میں ہے اور دوسری جماعتیں بھی حکومت میں ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ’پہلی بات تو یہ کہ مسلم لیگ نون لانگ مارچ کر ہی نہیں سکتی اور وہ کریں گے بھی نہیں اور اگر کریں گے بھی تو کس کے خلاف کریں گے ؟کوئی ڈکٹیٹر تو ہے نہیں جمہوری حکومت ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کا ایک ہی طریقہ ہوسکتا ہے کہ وہ یہ کہ وہ پارلیمان میں اپنی نشستوں کو چھوڑ دیں اور اپوزیشن بن کر مقابلہ کریں تو شاید اُن کو عوام سن لیں لیکن اگر حکومت کے خلاف کوئی حکومت کوئی اقدام کرے گی تو وہ بغاوت کے زمرے میں آئے گا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کے متعلق انہوں نے کہا کہ اس بات کا فیصلہ ان کی قانونی ٹیم کرے گی۔

اسی بارے میں