ضلعی ججوں کی تعداد میں اضافے کی سفارش

تصویر کے کاپی رائٹ Other

پاکستان کے لاء اینڈ جسٹس کمیشن نے حکومت کو سفارش کی ہے کہ شہریوں کی مشکلات کم کرنے کے لیے ضلعی عدالتوں میں ججوں کی تعداد بڑھائی جانی چاہیے۔

یہ سفارش پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں ہونے والے پاکستان کے لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے اجلاس میں کی گئی۔

اس اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ کمیشن یہ سمجھتا ہے کہا کہ آئین کے تحت یہ مملکت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سستا اور فوری انصاف کو یقینی بنائے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ انصاف کی فراہمی میں تاخیر کی وجہ سے مقدمے میں فریق بننے والے ایک عام شہری کو در پیش مشکلات کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے کمیشن نے یہ سفارش کی ہے کہ ضلعی عدالتوں میں ججوں کی تعداد فوری طور پر بڑھائی جائے تا کہ بڑھتے ہویے مقدمات کے چلینجز سے نمٹا جاسکے۔

بیان کے مطابق کمیشن نے یہ بھی سفارش کی ہے کہ بڑھتے ہویے مقدمات کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ججوں کی تعداد بڑھانے، متعلقہ عملے اور ضروری سہولیات فراہم کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں آنے والے بجٹ میں اضافی رقم مختص کریں۔

بیان کے الفاظ میں کمیشن یہ بھی سمجھتا ہے کہ سروسز ٹریبیونل کو اپنے احکامات پر عملدرآمد کروانے کے لیے اختیارات نہ ہونے کی وجہ سے چارہ جوئی کرنے والے افراد کی شکایات کا ازلہ کرنے یا احکامات پر عملدرآمد کروانے کے لیے ہائی کورٹ کا رخ کرتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کمیشن نے یہ بھی سفارش کی ہے کہ ملازمین کو سروسز ٹریبیونل کے احکامات پر عمل درآمد کروانے میں مشکلات کے پیش نظر سروسز ٹریبینول کو اپنے احکامات پر عمل درآمد کرانے کے لیے اختیارات دیے جائیں۔

بیان کے مطابق کمیشن نے فوجداری مقدمات میں تفتیش کے گرتے ہوئے معیار اور نظام انصاف پر اس کے برے اثرات پر بھی غور کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کمیشن یہ سمجھتا ہے کہ تفتیش سرسری طور پر کی جاتی ہے یا مجرموں کو فائدہ پہنچانے کے لیے جان بوجھ کر قانونی کمزوریاں چھوڑی جاتی ہیں۔

بیان کے مطابق کمیشن یہ محسوس کرتا ہے کہ اس عمل کی وجہ سے نہ صرف حکومت بد نام ہوتی بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچتی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کمیشن نے سفارش کی ہے کہ قانون کے مطابق تفتیش کرنے میں غفلت برتنے والے افسروں کو سزا دینے کے لیے پینل کوڈ آف پاکستان میں ایک شق شامل کی جائے۔

بیان کے مطابق لاء اینڈ جسٹس کمیشن نے جرگے یا پنچائیت کی مداخلت پر صلح کے بدلے کسی خاتون یا لڑکی کو بیاہ دینے کرنے کا بھی سختی سے نوٹس کیا ہے اور سفارش کی ہے کہ جو کوئی بھی اپنی لڑکی دتیا ہے، اس میں معاونت کرتا ہے، ترغیب دیتا ہے یا مطالبہ کرتا ہے یا صلح کے بدلے لڑکی بیاہ کرکے لاتا ہے تو اسے سخت ترین سزا دی جانی چاہیے جو چودہ سال تک ہو اور دس سال سے کم نہ ہو۔

اس موقع پر پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے خطاب کرتے کہا انصاف کی فراہمی مملکت کی ذمہ داری ہے جو نظام انصاف کے ذریعے ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک مضبوط نظام انصاف ہی لوگوں کے حقوق اور آئین کی پاسداری کرتا ہے اور یہ کہ سستے اور فوری انصاف کی فراہمی کے لیے قانون کو جدید اور آسان بنانے کی ضرورت ہے۔