نیٹو سپلائی کی بحالی کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان

nato
Image caption دفاع پاکستان کونسل کے سربراہ نے کہا کہ پارلیمان نے نیٹو سپلائی کھولنے کی مشروط اجازّت دی تھی لیکن اب پارلیمان کو بھی بائی پاس کیا جارہا ہے۔

مذ ہبی جماعتوں اور تنظیموں پر مشتمل دفاع پاکستان کونسل نے پاکستان کے راستے افغانستان میں نیٹو افواج کے لیے رسد کو ممکنہ طور پر دوبارہ کھولے جانے کے خلاف خلاف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ فیصلہ جماعت اسلامی کے لاہور میں مرکز منصورہ میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔

اجلاس کے بعد دفاع پاکستان کونسل کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے بتایا کہ نیٹو کی رسد کے خلاف لانگ مارچ ستائیس مئی کو کراچی سے شروع ہوگا اور مختلف شہروں سے ہوتا ہوا اسلام آباد پہنچے گا۔

کونسل کے سربراہ نے یہ بھی اعلان کیا کہ لانگ مارچ سے قبل نیٹو کی ممکنہ سپلائی کے خلاف پچیس مئی کو ملک بھر یوم احتجاج بھی منایا جائے گا۔

مولانا سمیع الحق نے اس بات افسوس کا اظہار کیا کہ مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران کو بھی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی لیکن وہ شریک نہیں ہوئے۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق دفاع پاکستان کونسل کے سربراہ نے کہا کہ پارلیمان نے نیٹو سپلائی کھولنے کی مشروط اجازّت دی تھی لیکن اب پارلیمان کو بھی بائی پاس کیا جا رہا ہے اس لیے بقول ان کے پارلیمان کو چاہیے کہ وہ خود محاسبہ کرے۔

کونسل کے سربراہ نے کہا کہ حکومت نیٹو سپلائی کے بارے میں کوئی بات کرے گی وہ قابل قبول نہیں ہوگی کیونکہ اس وقت وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے سزا یافتہ ہونے کی وجہ سے حکومت بھی غیر قانونی اور غیر آئینی ہوچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے غیر آئینی ہونے پر اب اس کو کوئی حق نہیں ہے کہ ملک کی سلامتی ، دفاع اور خودمختاری پر اثرانداز ہونے والے فیصلے کرے۔

مولانا سمیع الحق نے یہ بھی کہا کہ عسکری قیادت کو مؤثر کردار ادا کرنا چاہئے کیونکہ یہ پاکستان کے دفاع کا معاملے ہے۔

ایک سوال پر کونسل کے سربراہ نے کہا کہ لانگ مارچ پُرامن ہوگا اور کونسل میں شامل جماعتوں کے رہنماؤں پر ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو لانگ مارچ کی تفصیلات طے کریں گے۔

اسی بارے میں