فاٹا کو صوبہ بنائیں: فاٹا گرینڈ الائنس

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption قبائلی علاقوں کے عوام ابھی تک چند بنیادی حقوقِ شہریت سے محروم ہیں۔

دنیا میں جہاں ایک طرف افغانستان کے مستقبل کے بارے میں سربراہ اجلاس ہو رہا ہے وہاں پاکستان کے قبائلی علاقوں کے مستقبل کے بارے میں بھی بحث جاری ہے۔

اس سوال پر کہ قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخواہ اسمبلی میں نمائندگی دی جائے یا علیحدہ صوبہ بنا دیا جائے، مبصرین کا کہنا ہے کہ حکام کو قبائلی علاقوں کو جغرافیائی، انتظامی اور ثقافتی حوالے سے دیکھ کر کوئی فیصلہ کرنا چاہیے۔

قبائلی علاقوں کی ایک تنظیم ’فاٹا گرینڈ الائنس‘ نے گزشتہ روز ایک اجلاس میں قبائلی علاقوں پر مشتمل علیحدہ صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس تنظیم کے سربراہ خان مرجان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ خیبر پختونخواہ اسمبلی میں نمائندگی کی قرارداد کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ اس سے وہ پسماندہ رہیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے بیس کے لگ بھگ نمائندے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں موجود ہیں لیکن انھیں یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ آئینی ترامیم میں کوئی حصہ لے سکیں اس لیے صوبائی اسمبلی میں نمائندگی سے انھیں کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

یاد رہے کچھ روز پہلے خیبر پختونخواہ اسمبلی میں متفقہ قرار داد منظور کی گئی تھی جس میں قبائلی لوگوں کو صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دینے اور انھیں ایف سی آر کے حوالے سے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل کا حق دینے کی بات کی گئی تھی۔

جغرافیائی اعتبار سے قبائلی علاقے صوبہ خیبر پختونخواہ سے منسلک ہیں اور قبائلی لوگوں کے روز مرہ کے معاملات جیسے کے تعلیم، صحت یا سرکاری مسائل بھی خیبر پختونخواہ میں ہی حل کیے جاتے ہیں۔

’فاٹا گرینڈ الائنس‘ کے موقف کی مخالفت کرتے ہوئے جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے قبائلی رہنما حیات اللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ساٹھ سال سے قبائلی علاقے ایک علیحدہ یونٹ کے طور پر رہے ہیں لیکن اس علاقے نے کوئی ترقی نہیں کی ہے تو علیحدہ صوبہ بن کر کیا ترقی کی جا سکے گی۔

انھوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کے لوگوں کی تجارت، کاروبار ، تعلیم، صحت ، سب کچھ خیبر پختونخواہ کے ساتھ منسلک ہے۔

پاکستان کے ایک اور قبائلی علاقے مہمند ایجنسی سے تعلق رکھنے والے رہنما ظاہر شاہ ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ سب نعرے انتخابات کی تیاریاں ہیں، قبائلی علاقے کے لوگوں کو ہر کچھ دنوں بعد اس طرح کے خوبصورت نعرے دے دیے جاتے ہیں جس کے بعد خاموشی چھا جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک منتخب کونسل ہو اور وہ قبائلی علاقوں کے مستبقل کے بارے میں فیصلہ کرے۔

قبائلی علاقوں پر تحقیق کرنے والے باچا خان ایجویشن فاؤنڈیشن کے سربراہ پروفیسر خادم حسین سے جب رابط کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ جغرافیائی، انتظامی اور دیگر حوالوں سے بھی یہ علیحدہ صوبہ اس لیے نہیں بن سکتا کیونکہ فاٹا میں ایک بھی ایسا علاقہ نہیں ہے جو انتظامی حوالے سے سارے قبائلی علاقے کی دیکھ بھال کر سکے۔

ایف سی آر جیسے قوانین اور بنیادی حقوق سے محروم افراد کو اگر تمام حقوق دے دیے جائیں اور علاقے میں ترقیاتی کام شروع کر دیے جاییں تو یہ شاید اس علاقے کے لوگوں پر بڑا احسان ہو گا۔

اسی بارے میں