بھٹو ریفرنس کیس، اعتزاز احسن وکیل مقرر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اعتزاز احسن توہین عدالت کیس میں بھی وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے وکیل ہیں

پاکستان کے قائم مقام صدر نیر حسین بخاری نے ملک کے سابق وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کی سزا سے متعلق سپریم کورٹ میں دائر صدارتی ریفرنس میں بابر اعوان کی جگہ بیرسٹر اعتزاز احسن کو وکیل مقرر کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ رواں سال جنوری میں سپریم کورٹ نے توہین عدالت کیس میں بابر اعوان کا لائسنس عارضی طور پر معطل کر دیا تھا۔

رواں سال اپریل میں صدر آصف علی زرداری نے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کیا تھا اور اس میں بابر اعوان کو سرکاری وکیل مقرر کیا گیا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ صدارتی ریفرنس میں کسی دوسرے وکیل کے مقرر ہونے تک بھٹو ریفرنس کیس کی سماعت معطل رہے گی۔

منگل کو قائم مقام صدر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل آف پاکستان سے کہا تھا کہ وہ صدر ِمملکت کو آگاہ کریں کہ بھٹو ریفرنس کیس کے وکیل بابر اعوان کا لائسنس عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے اور عدالتی تاریخ کے ایک اہم ترین کیس میں دلائل کے لیے دوسرا وکیل مقرر کیا جائے۔

اس پر وزارتِ قانون و انصاف نے وزیراعظم کو تجویز کیا تھا کہ وہ صدر مملکت کو اس کیس میں نیا وکیل مقرر کرنے کا مشورہ دیں۔

وزیراعظم کے مشورہ پر منگل کو قائم مقام صدر نے بیرسٹر اعتزاز احسن کو بھٹو ریفرنس کیس میں وکیل مقرر کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال دو اپریل کو پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم اور پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کے عدالتی فیصلے کا دوبارہ جائزہ لینے کے لیے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کیا گیا تھا اور اس میں بابر اعوان کو سرکاری وکیل مقرر کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں