بلوچستان:’ڈپٹی اٹارنی جنرل مستعفی ہو گئے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت بدھ کی صبح تک ملتوی کر دی گئی۔

بلوچستان میں امن وامان اور لاپتہ افراد سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کی برہمی کے بعد ڈپٹی اٹارنی جنرل نے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔

عدالت نے بدھ کے روز حافظ سیعد الرحمان کیس میں نیشنل کرائسسز منیجمنٹ کے سربراہ کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ اگر لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کر لیا جائے توصوبے کے ساٹھ فیصد حالات درست ہو جائیں گے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے منگل کو کیس کی سماعت کی۔

عدالت میں اگرچہ چیف سیکرٹری بلوچستان، گورنر اور وزیراعلٰی کے پرنسپل سیکرٹریز کے علاوہ صوبائی سیکرٹری داخلہ اور آئی جی پولیس تو پیش ہوئے تاہم وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اور سیکرٹری دفاع اور وفاقی سیکرٹری داخلہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔

چیف جسٹس نے اس موقع پر اپنے ریمارکس میں کہا کہ باہر لوگ چیخ رہے ہیں اور ایجنسیوں پر انتہائی سنجیدہ الزامات ہیں جبکہ اس حوالے سے وفاق دلچسپی نہیں لے رہا۔

چیف جسٹس نے اس موقع پر یہ کہا کہ ہم نے بلوچستان کو بچانا ہے، سیکرٹری دفاع، سیکرٹری داخلہ اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری آ سکتے ہیں تو آ جائیں ورنہ ان کے خلاف ایکشن ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیم فوجی دستے ایف سی کے خلاف اسی فیصد الزامات ہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس میں یہ بھی کہا کہ جتنی تحقیر عدالتوں کی ہو رہی ہے کسی کی نہیں کی جا رہی۔

انہوں نے حکم دیا کہ زمین سے لائیں یا آسمان سے لائیں، لاپتہ افراد کو بازیاب کریں۔

Image caption اگر لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کر لیا جائے توصوبے کے ساٹھ فیصد حالات درست ہو جائیں گے: چیف جسٹس

اس موقع پر چیف جسٹس نے دپٹی اٹارنی جنرل ملک سکندر ایڈووکیٹ کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ بے بس ہیں جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل جذباتی ہوگئے اور انہوں نے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ کھلا راز ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال قابو میں نہیں آ رہی اور بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات، افراد کا لاپتہ ہونا اور مسخ شدہ لاشوں کا ملنا حکام کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ثبوت بھی ملے ہیں کہ ایف سی، آئی ایس آئی، ایم آئی ان واقعات میں ملوث ہیں اور ہم نے یہ ثبوت آئی جی ایف سی، آئی جی پولیس کو بھی دکھائے ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ آئین اور قانون کے مطابق احکامات پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا ہے جس کے باعث ہمیں سخت احکامات جاری کرنے پڑتے ہیں۔

عدالت نے ٹارگٹ کلنگ اور امن وا مان کی مخدوش صورتحال کے حوالے سے کہا کہ بلوچستان میں صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ہم نے اقدامات کیے، جب تک یہاں حالات بہتر نہیں ہوتے ہماری یہ مشق جاری رہے گی۔

ایک موقع پر چیف جسٹس نے ڈی آئی جی فرنٹیئر کور کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں ایف سی فائٹنگ فورس ہے۔ قیام امن کے لیے اسے آگے آنا چاہیے لیکن یہاں ایف سی کی کارکردگی مایوس کن اور صفر ہے۔

جس پر ڈی آئی جی ایف سی نے لوگوں کے اغواء میں ایف سی کے ملوث ہونے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایف سی کسی شخص کے اغواء میں ملوث ثابت ہوئی تو وہ تمام تر ذمہ داری لینے کو تیار ہیں۔

چیف جسٹس نے 2003 میں لاپتہ ہونےوالے حافظ سیعد الرحمان کے حوالے سے پولیس کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں کے ساتھ جھوٹ بولا جا رہا ہے اس طرح کے کام ہو رہے ہیں جس سے عدالت کو سخت اقدامات اٹھانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

ایک موقع پر جسٹس خلجی عارف نے ریمارکس دیے کہ صوبے میں آگ لگی ہوئی ہے اور صوبے کے انتظامی سربراہان اور وفاق کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔

ایک موقع پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کو خود آنا چاہیے تھا۔

جسٹس خلجی عارف نے پولیس انتظامیہ کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں حالات بہتر بنانے کے لیے اچھے اور اعلیٰ پولیس افسران کی ضرورت ہے۔

عدالت نے جوائنٹ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو حکم دیا کہ بلوچستان میں ٹرانسفر کیے گئے پولیس افسران کے بلوچستان تبادلے کے احکامات پیش کیے جائیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگرکوئی نوکری نہیں کرنا چاہتا تو اس کی تنخواہ بند کر دی جائے۔

اسی بارے میں