’پہلے انکار اور اب اعتراف کرنا سازش ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں حزب مخالف کی بڑی جماعت پیپلز پارٹی نے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی جنوبی پنجاب میں شدت پسندوں کی آماجگاہ ہونے کے اعتراف کو ایک سازش قرار دیا ہے اور کہا کہ جان بوجھ کر یہ اعتراف کیا گیا ہے تاکہ جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے سے روکا جاسکے۔

پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر اور پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے عہدیدار شوکت بسرا نے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا اعتراف جنوبی پنجاب کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔

مقامی اخبار کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے چند روز قبل ایک سفارتی تقریب میں پہلی مرتبہ یہ اعتراف کیا کہ جنوبی پنجاب شدت پسندوں کی آماجگاہ ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنماء شوکت بسرا نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کا بیان اس تحریک کی طرف سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے جو جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے لیے شروع ہو چکی ہے۔

پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات کہنا ہے کہ پہلے صوبائی حکومت اس بارے میں انکار کرتی رہی ہے اور اس بابت وزیر داخلہ سینیٹر رحمان ملک کے موقف کو بھی رد کیا گیا لیکن اب یہ بیان اس وقت دیا گیا ہے جب پارلیمان کے اندر جنوبی پنجاب کو نیا صوبہ بنانے کے بارے میں قانون سازی ہونے والی ہے۔

شوکت بسرا کا کہنا ہے کہ اب مسلم لیگ نون کی طرف سے یہ جواز بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ جنوبی پنجاب میں امن و امان کی صورت حال بہتر نہیں ہے اس لیے اسے الگ صوبہ نہ بنایا جائے لیکن بقول ان کے یہ حربہ کامیاب نہیں ہوگا اور ہر حال میں جنوبی پنجاب نیا صوبہ بنے گا۔

مسلم لیگ نون کے سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مشاہد اللہ خان نے اس تاثر کو رد کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے جنوبی پنجاب میں شدت پسندی کے بارے میں بیان جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے سے روکنے کی کوئی کڑی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ شدت پسندی اور نئے صوبے کی تشکیل دو الگ الگ معاملے ہیں۔

ان کے بقول ہوسکتا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو ایسے اعداد و شمار بتائے گئے ہوں جس کی بنا پر انہوں نے یہ بات کی۔

سیاسی تجزیہ نگار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کی رائے ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے جنوبی پنجاب میں شدت پسندی کے بارے میں جو بیان دیا ہے اس کا تعلق جنوبی پنجاب کو نیا صوبہ بنانے کی تحریک سے ہو سکتا ہے۔

ان کے بقول اس معاملے کو اٹھانے کا مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کل کو جب جنوبی پنجاب الگ صوبہ بنیں تو اس سے وہاں دہشت گردی مضبوط ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر حسن عسکری کے مطابق یہ بیان ایک پروپیگنڈا ہو سکتا ہے تاہم اس طرح کے بیان سے جنوبی پنجاب کو نیا صوبہ بنانے کے معاملے پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

اسی بارے میں