شمالی وزیرستان: ڈرون حملے میں چار افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حکام کے مطابق میزائل حملوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ صدر مقام میرانشاہ شہر میں لوگ خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کے مطابق امریکی جاسوس طیاروں کے ایک حملے میں چار افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔

ہلاک ہونے والے افراد میں ایک غیر ملکی عرب بتایا جاتا ہے جبکہ زخمیوں میں بھی ایک عرب شامل ہے۔

میرانشاہ میں ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا کہ بدھ کی صُبح چار بجے کے قریب صدر مقام میرانشاہ میں امریکی جاسوس طیارے نے شہر کے جنوبی حصے میں واقع ایک مکان کو نشانہ بنایا۔

حکام کے مطابق جاسوس طیاروں سے مکان پر دو میزائل فائر کیے گئے جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔ انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک غیر مُلکی عرب شامل ہے لیکن ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ غیر مُلکی عرب کا نام کیا ہے اور وہ القاعدہ تنظیم میں کیا اہمیت رکھتا تھا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان دو گاڑیوں میں متاثرہ مکان تک پہنچے اور فوری طور پر انہوں نے لاشوں اور زخمیوں کو ایک نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

حکام کے مطابق میزائل حملوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ صدر مقام میرانشاہ شہر میں لوگ خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے۔

سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں تین دوسرے پاکستانی اور افغانی قومیت کے بتائے جاتے ہیں۔ تاہم اس میں کسی اہم شخصیت کی اطلاعات نہیں ہے۔

حکام کے مطابق امریکی جاسوس طیاروں کے حملے میں مکان بھی مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ مکان شہر کے ایک کُنجان آباد علاقے میں واقعہ ہے اور اس حملے سے پہلے بھی شہر میں کئی بار شدت پسندوں کے رہائش گاہوں کو نشانہ بنایا ہے۔

واضح رہے کے شہر سے ملحقہ علاقہ ڈانڈے درپہ خیل میں حقانی گروپ کے متعدد ٹھکانے تھے اور سڑک کے کنارے حقانی کا ایک مدرسہ بھی تھا جسے انتظامیہ نے چار سال پہلے منہدم کر دیا تھا۔

پاکستان نے کئ بار امریکہ کے سامنے ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے لیکن امریکہ نے قبائلی علاقوں پر ڈرون حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

مبصرین کے خیال میں جنوبی و شمالی وزیرستان دو ایسے قبائلی علاقے ہیں جہاں غیرمُلکی جنگجو اور مقامی طالبان کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں۔ اس لیے سب سے زیادہ ڈرون حملوں کا نشانہ بھی یہی دو قبائلی علاقے ہیں۔

اسی بارے میں