’حملے میں سیاسی عناصر ملوث ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صوبہ سندھ پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے کہا ہے کہ کراچی میں منگل کو پرامن سیاسی ریلی پر ہونے والے مسلح حملے کے سیاسی محرکات ہیں اور اس میں سیاسی عناصر ملوث ہیں۔

ایڈیشنل آئی جی پولیس سندھ اختر گورچانی نے بی بی سی اردو سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ کھلا راز ہے کہ عوامی تحریک ہے یا اس میں مسلم لیگ نون کے کچھ لوگ شامل تھے ماروی میمن وغیرہ، اے این پی نے بھی اسکی حمایت کا اعلان کردیا تھا، ان سب کی جو مخالف قوت ہے، وہ ظاہر ہے کہ متحدہ قومی موومینٹ ہے تو اس میں ایسی کوئی راز والی بات تو ہے نہیں۔‘

لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریلی کے منتظمین نے بھی پولیس سے تعاون نہیں کیا۔ ’پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر تو بڑی تنقید ہوتی ہے کہ جی آپ کہاں تھے لیکن کوئی یہ بھی سوچتا ہے کہ اس طرح کی ریلی اگر نکالنی بھی ہوتی ہے تو اسکا کوئی طریقہ کار ہوتا ہے۔ انتظامیہ کا اجازت نامہ ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں ریلی کا انعقاد کرنا جہاں پہلے ہی صورتحال کشیدہ ہے، بالغ نظری نہیں تھی اور یہ کہ انتظامیہ کے ساتھ ساتھ سیاسی قیادتیں بھی اپنی ذمہ داری محسوس کریں۔

لیکن جب ان سے یہ سوال کیاگیا کہ اگر ان کے بقول حملے میں سیاسی عناصر ملوث ہیں تو کیا کسی کی گرفتاری عمل میں آئی تو ان کے پاس کوئی واضح جواب نہیں تھا۔

’ہم نے علاقے کا محاصرہ کرکے سرچ کیا، ایک ایکشن بھی کیا۔ اس میں چند لوگ گرفتار ہوئے لیکن ان عناصر پر گرفت ہم نہیں کرسکتے جناب! گرفت سول سوسائٹی کرسکتی ہے یا میڈیا کرسکتا ہے۔‘

اختر گورچانی نے اس سلسلے میں کراچی کے علاقے لیاری کی مثال دی اور کہا کہ وہاں جب پولیس نے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی اور اس میں پولیس کے خلاف مارٹر گولے اور راکٹ استعمال ہورہے تھے تو پولیس کے خلاف احتجاج ہوا اور ان کے بقول سول سوسائٹی کے دباؤ پر پولیس کو وہ کارروائی روکنا پڑی۔

مسٹر گورچانی نے یہ دعوی بھی کیا کہ ریلی کے منتظمین نے پولیس سے آخری وقت تک احتجاج کی گزرگاہ کو خفیہ رکھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ریلی کی حفاظت پر پولیس کی بھاری نفری بھی مامور کی گئی تھی لیکن جلوس میں پانچ چھ ہزار لوگ شامل ہوگئے تھے اور تنگ گلیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حملہ آوروں نے فائرنگ کردی۔

’اس وقت پولیس نے اپنے طور پر لوگوں کو بچانے کی کوشش کی اور جوابی فائرنگ بھی کی اور ایک دو پولیس والے بھی زخمی ہوئے۔‘

اسی بارے میں