قیدیوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کا فیصلہ

Image caption اس وقت ملک بھر میں جیلوں کی تعداد نواسی ہے

نادرا یعنی نیشنل ڈیٹا بیس اتھارٹی نے ملک بھر کی جیلوں میں قید افراد کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کے لیے کام شروع کر دیا ہے اور اس ضمن میں ایک سیل بھی قائم کردیا گیا ہے۔

تمام صوبوں کو وفاقی حکومت کی طرف سے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ اس مد میں تعاون کریں اور عام مقدمات میں سزا پانے والے قیدیوں اور سنگین جرائم میں ملوث افراد کے ریکارڈ کو الگ الگ مرتب کیا جائے گا۔

نادرا کے اس سیل میں کام کرنے والے اہلکار حمزہ طیب نے بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کو بتایا کہ شدت پسندی کے مقدمات میں گرفتار ہونے والے افراد اور قیدیوں کا ریکارڈ الگ سے مرتب کیا جائے گا اور یہ ریکارڈ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر خفیہ اداروں کو بھی فراہم کیا جائے گا۔

اُنہوں نے کہا کہ ان افراد کے خلاف مقدمات اور اُس میں ہونے والی پیش رفت کا ریکارڈ بھی رکھا جائے گا۔

نادرا کے اہلکار کا کہنا تھا کہ کی رہائی کی صورت میں متعقلہ ضلعی انتظامیہ سے بھی کہا جائے گا کہ وہ ان افراد کی سرگرمیوں سے متعلق آگاہ کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ نادرا کے اہلکار مہینے میں دو مرتبہ متعلقہ ضلع کی پولیس سے ان افراد سے متعلق تفصیلات اکھٹی کرنے کے بعد اُن کے ریکارڈ کو اپ ڈیٹ رکھے گا۔

اس وقت ملک بھر میں جیلوں کی تعداد نواسی ہے جن میں سے سب سے زیادہ جیلیں صوبہ پنجاب میں ہیں جن کی تعداد چونتیس ہے۔

یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل خفیہ اداروں نے رپورٹ دی تھی کہ ملک کی مختلف جیلوں میں قید شدت پسند جیل کے اندر سے بیٹھ کر ہی سماج دشمن کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ اس رپورٹ میں جیل حکام کے شدت پسندوں کے ساتھ مبینہ تعلقات کے امکان کو رد نہیں کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حال ہی میں بنوں جیل پر حملے میں بڑی تعداد میں قیدیوں کو چھڑوا لیا گیا تھا

دوسری جانب وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ جیلوں میں موبائیل جیمرز لگانے کے لیے این او سی جاری کردیا گیا ہے اور صوبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔

اُنہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ جیلوں کے اندر اور باہر سکیورٹی کی صورت حال مزید بہتر بنانے کے لیے جدید اسلحہ اور جدید آلات بھی خریدے جا ر ہے ہیں۔

اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کرنے کا مقصد قیدیوں اور بلخصوص سنگین جرائم میں ملوث افراد کا جیل کے اندر سے کارروائیوں کو روکنا ہے۔

وزیر داخلہ کے بقول شدت پسندی کے مقدمات میں گرفتار ہونے والے افراد بھی جیلوں کے اندر بیٹھ کر اپنے ساتھیوں کو مختلف کارروائیاں کرنے کی ہدایت کرتے رہتے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں بھی جیل کی تعمیر کے لیے اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے یعنی سی ڈی اے کو زمین الاٹ کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھاکہ اسلام آباد کے ایک تھانے کو عارضی جیل قرار دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل اسلام آباد کی انتظامیہ نے اسلام آباد کے سیکٹر جی الیون میں واقع رمنا تھانے کو عارضی جیل کا درجہ دینے کے احکامات جاری کیے تھے تاہم یہ حکم عمل درآمد ہونے سے پہلے ہی واپس لے لیا گیا۔

اسی بارے میں