امریکہ کو ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا پر تشویش

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ڈاکٹر شکیل نے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے ٹھکانے کے قریب حفاظتی ٹیکوں کی جعلی مہم چلائی تھی

امریکی وزارتِ خارجہ اور حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسامہ بن لادن کی تلاش میں مدد دینے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی پولیٹکل انتظامیہ نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو غداری کے الزام پر تیس برس قید اور جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا ہےکہ امریکہ پہلے بھی شکیل آفریدی کا معاملہ حکومت پاکستان سے اٹھا چکا ہے اور اسے اب پھر اٹھائے گا۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نیولینڈ نے واشنگٹن میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں اِن الزامات نہ اُن کی گرفتاری کی کوئی بنیاد نظر آ رہی ہے۔ ہم نے یہ معاملہ لگاتار پاکستان کے سامنے اٹھایا ہے اور ہم یہی کررتے رہیں گے‘۔

ترجمان نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کا موقف ہے کہ القاعدہ کے خلاف امریکہ کی مدد کو پاکستان کے خلاف غداری تصور نہیں کی جانی چاہیے۔

شکیل آفریدی نے ایبٹ آباد میں مقیم القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کا ڈی این اے حاصل کرنے کے لیے ہیپائیٹس سے بچاؤ کے ٹیکے لگانے کی ایک جعلی مہم شروع تھی۔

امریکی محکمۂ دفاع کے ایک ترجمان جارج لٹل نے ڈاکٹر شکیل کی سزا پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’کسی بھی ایک فرد پر تبصرہ کیے بغیر ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جس کسی نے بھی اسامہ بن لادن کی گرفتاری میں امریکہ کی مدد کی وہ پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ القاعدہ کے خلاف کام کر رہا تھا‘۔

حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی ڈاکٹر شکیل کو سزا دیے جانے پر اپنے تحفظات ظاہر کیے ہیں اور خبردار کیا ہے کہ ایسی عدالتی کارروائیاں پاکستان میں بحرانوں کو بڑھا دیں گی۔

تنظیم کے سیکرٹری جنرل سلیل شیٹی نے بدھ کو جاری ہونے والے بیان میں کہا ہے کہ اس فیصلے سے عیاں ہے کہ پاکستان کے کچھ علاقوں میں اب حقوقِ انسانی کا وجود نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں شمالی مغربی سرحدی علاقے، بلوچستان، سوات اور پاکستان کے خودمختار قبائلی علاقہ جات میں حقوقِ انسانی مکمل طور پر معطل دکھائی دیتے ہیں‘۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’وہاں پر موجود شدت پسند ہوں، حکام ہوں یا امریکہ کے ڈرون حملے، ہر ایک، ہر صورتحال میں انسانی حقوق پامال کر رہا ہے اور ایسی صورتحال میں کسی کو انصاف ملنے کی توقع نہیں کی جا سکتی‘۔

سلیل شیٹی نے کہا کہ ’ہمیں احتساب اور انصاف کی ضرورت ہے۔ اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو یہ مزید کئی بحرانوں کو جنم دینے کی وجہ بنے گا‘۔

خیال رہے کہ پاکستان کے خُفیہ اداروں نے بائیس مئی دو ہزار گیارہ کو ڈاکٹر شکیل آفریدی کو ڈیوٹی سے گھر جاتے ہوئے حیات آباد کے قریب کارخانوں مارکیٹ سے گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تھا۔

خیبر ایجنسی میں پولیٹکل انتظامیہ کے ایک افسر صدیق خان نے بدھ کو بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا تھا کہ تحصیل باڑہ کے اسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ کی عدالت نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو امریکہ کے لیے جاسوسی کے الزام میں تیس سال قید کی سزا سُنائی۔

انہوں نے کہا کہ انہیں غداری کا الزام ثابت ہونے پر سزا دی گئی ہے اور ایف سی آر کے تحت ان پر ساڑھے تین لاکھ روپے جُرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے اور جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں وہ مزید تین سال جیل میں گزاریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو سنٹرل جیل پشاور منتقل کر دیا گیا ہے جہاں وہ اپنی سزا پوری کریں گے۔ اہلکار کے مطابق ڈاکٹر شکیل پر یہ الزام ثابت ہوگیا ہے کہ انہوں نے اسامہ بن لادن کا پتہ چلانے میں امریکہ کی مدد کی تھی۔

صوبائی محکمہ صحت نے القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن کے بارے میں امریکیوں کو معلومات فراہم کرنے کے الزام میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کو پہلے ہی نوکری سے برطرف کر دیا تھا۔

اس واقعے کے بعد سے ان کے اہلِ خانہ بھی روپوش ہیں جن میں ان کی پاکستانی نژاد امریکی بیوی بھی شامل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈاکٹر شکیل کی امریکی بیوی کے بھائی پاکستان میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں اور ان کا تعلق پنجاب سے بتایا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن کی گرفتاری کےلیے امریکہ نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی خدمات حاصل کی تھیں۔ سی آئی کے اہلکار سیٹلائیٹ اور دیگر ذرائع سے اس عمارت کی نگرانی کر رہے تھے لیکن وہ ایک دوسرے ملک میں پرخطر حتمی کارروائی سے پہلے اس بات کی تصدیق کرنا چاہتے تھے کہ اسامہ بن لادن واقعی وہاں موجود ہیں۔

اس مہم کو چلانے کے لیے مبینہ طور پر سی آئی اے کے ایجنٹوں نے ڈاکٹر شکیل آفریدی سے رابطہ کیا جو خیبر ایجنسی میں صحت کے شعبے کے انچارج تھے۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی مارچ میں یہ کہتے ہوئے ایبٹ آباد گئے تھے کہ انہوں نے ہیپاٹائٹس بی کے حفاظتی ٹیکے مفت لگانے کے لیے فنڈ حاصل کیے ہیں۔

اسی بارے میں