’ایف سی آر کا قانون ختم کیا جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد اگرچہ ایف سی آر میں اصلاحات کرنے کا کہا تھا لیکن آج بھی ایف سی اپنی جگہ پر موجود ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور انسانی حقوق کی تنظیم کے سابق چیئرمین سینیٹر افرسیاب خٹک نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کا ایف سی آر کے حوالے سے اصلاحات کی بات کرنا محض چونا لگانے کے برابر ہے۔

امریکہ کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار ڈاکٹر شکیل آفریدی کو ایف سی آر کے تحت سزا سنائے جانے کے بعد ایف سی آر یعنی فرنٹیئر کرائم ریگولیشن پر ایک مرتبہ پھر بحث چھڑ گئی ہے۔

موجودہ حکومت نے قبائلی علاقوں کے بارے میں اصلاحات کے دعوے کیے لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہیں۔ لوگ اب بھی ایف سی آر یعنی بقول قبائلی عوام کے ’کالے قانون‘ کے تحت فرد واحد کا حکم تسلیم کرنے کے پابند ہیں۔

افراسیاب خٹک نے بی بی سی سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ قبائلی علاقوں کے لیے صدر آصف علی زرداری کی جانب سے سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں کے بارے میں اصلاحات قابل تعریف ہیں لیکن ایف سی آر کے حوالے سے اصلاحات کی بات کرنا عوام کو چونا لگانا ہے۔

انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ریاست کے تین اداروں میں سے فاٹا میں صرف انتظامیہ کام کر رہی ہے مقننہ اور عدلیہ نہیں ہے۔ مققنہ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فاٹا کے منتخب نمائندے باقی سارے ملک میں قانون سازی کے عمل میں حصہ لے سکتے ہیں لیکن فاٹا کے بارے میں وہ قانون سازی نہیں کر سکتے۔

اس کے علاوہ اپیل کے فورم صرف کارروائی کی بات ہے یا نام نہاد ہیں اس فورم میں انتظامی افسر بیٹھے ہیں جنہوں نے ججوں کا روپ دھارا ہوا ہے۔ در اصل وہ جج نہیں ہیں، عدلیہ نہیں ہے اور اہم بات یہ ہے کہ یہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی نگرانی سے باہر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیٹکل ایجنٹ مستغیث یعنی شکایت کنندہ بھی ہے جج بھی ہوتا ہے فاٹا میں پولیس کا چیف وہی ہے، جیلر ہے اور سب کچھ وہی ایک شخص ہے اسی لیے اسے کالا قانون کہا جاتا ہے۔

شکیل آفریدی کو ایف سی آر کے بارے میں سزا دینے کے حوالے سے جب ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس بارے میں تفصیلات نہیں پڑھیں اس لیے وہ اس پر کوئی بات نہیں کر سکتے۔

جب ان سے پوچھا کہ کیا کسی ایسے شخص کو گرفتار کرکے اس طرح سزا دی جا سکتی ہے اور اس بارے میں وہ کہیں اپیل کر سکتا ہے تو انہوں نے کہا کہ نام نہاد اپیلیٹ فورمز بنائے گئے ہیں جن کے تحت جیسے کمشنر اور ہوم سیکرٹیری ہیں وہ اپیل سن سکتے ہیں لیکن جب تک فاٹا میں عدلیہ نہیں ہوگی تب تک انصاف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔

ایف سی آر یا فرنٹیئر کرائم ریگولیشن قبائلی علاقوں کا قانون ہے جو سب سے پہلے اٹھارہ سو اکہتر میں لاگو کیا گیا تھا جس کے مختصر سے سیکشنز تھے لیکن انیس سو ایک میں اس میں مزید شقیں شامل کی گئیں اور جرائم کا دائرکار وسیع کر دیا گیا۔ اسی طرح وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں شقیں بڑھائی گئیں اور اس وقت اس میں کوئی باسٹھ شقیں ہیں۔

موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد اگرچہ ایف سی آر میں اصلاحات کرنے کا کہا تھا لیکن آج بھی ایف سی اپنی جگہ پر موجود ہے۔

سیاستدان، قبائلی عوام اور سول سوسائیٹی کے حکام مسلسل یہ مطالبہ کرتے آ رہے ہیں کہ ایف سی آر کا قانون ختم کرکے فاٹا کے عوام کو تمام بنیادی حقوق دیے جائیں تو اس بارے میں رکاوٹیں کون پیدا کر رہا ہے ۔ افراسیاب خٹک پارلیمانی کمیٹی کے رکن ہیں۔ ان سے جب پوچھا کہ آخر رکاوٹ کون بن رہا ہے تو انہوں نے کہا کہ فاٹا میں امن و امان کی صورتحال کی وجہ سے تنازعہ پایا جاتا ہے اور وہاں ادارے موجود ہیں جو اصلاحات نافذ نہ کرنے کی وجہ بھی امن و امان کی صورتحال ہی بتاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب تک صورتحال بہتر نہیں ہوتی تب تک اصلاحات نہیں لائی جا سکتیں۔

ان سے جب پوچھا کہ آخر کون یہ اصلاحات نہیں کرنے دے رہا تو افراسیاب خٹک نے کہا کہ فاٹا کے لیے حکم نامہ صدر اور گورنر خیبر پختونخواہ جاری کرتے ہیں لیکن وہاں سول اور فوجی ادارے بھی موجود ہیں۔ صدر آصف زرداری نے سیاسی پارٹیوں کو رسائی کی اصلاحات تو کر دیں لیکن ایف سی آر کے حوالے سے اب بھی انتظامی ادارے جن میں سول اور فوجی ادارے موجود ہیں اور نفاذ کی سطح پر اب بھی مشکلات در پیش ہیں۔

اسی بارے میں