شکیل آفریدی کی سزا پر چند سوالات

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکہ کے لیے جاسوسی کر نے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کو خیبر ایجنسی میں پولیٹکل انتظامیہ کی جانب سے قبائلی علاقوں کے قانون ایف سی آر کے تحت سزا سنائے جانے کے بعد قانونی ماہرین نے متعدد سوالات اٹھائے ہیں۔

لطیف آفریدی ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ حکام شکیل آفریدی کو ہر حالت میں سزا دلوانا چاہتے تھے اس لیے ایف سی آر کے بد نام زمانہ قانون کے تحت انہیں سزا دی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر شکیل آفریدی کو اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کی سامنے پیش کیا گیا جہاں چار رکنی جرگے نے شکیل آفریدی پر فرد جرم عائد کیا۔ جس کے بعد پولیٹکل انتظامیہ نے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات ایک سو اکیس اے، ایکس سو تئیس اور ایک سو تئیس اے سمیت ایک سو چوبیس کے تحت سزا سنائی۔ پولیٹکل انتظامیہ کی جانب سے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو کل تینتیس سال قید اور تین لاکھ بیس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔

قانون اور ایف سی آر کے ماہر لطیف آفریدی ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ دفعات ریاست کے خلاف جرائم یا ریاست اور ریاست کے اتحادیوں پر جنگ مسلط کرنے کے حوالے سے ہیں۔

سزا سنائے جانے کے بعد ڈاکٹر شکیل آفریدی کو سنٹرل جیل پشاور منتقل کر دیا گیا۔

ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ سزا سنائے جانے کے بعد متعدد سوال پیدا ہو رہے ہیں۔ پہلے تو یہ کہا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی نے ایبٹ آباد میں پولیو کے قطرے پلانے کی ایک مہم شروع کی تھی۔ اب اگر ان پر یہ جرم ثابت ہوا ہے تو یہ واقعہ پاکستان کے بندو بستی علاقے میں پیش آیا ہے۔ اس کے بعد ڈاکٹر شکیل آفریدی کو گزشتہ سال بائیس مئی کو پشاور میں کارخانو مارکیٹ کے سامنے سے گرفتار کیا گیا تھا اور یہ بھی بندو بستی علاقہ ہے۔

اس بارے میں لطیف آفریدی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ وہ حکام جو لطیف آفریدی کو ہر حالت میں سزا دلوانا چاہتے تھے انہوں نے پاکستان میں ہر جگہ سے معلومات حاصل کیں اور آخر کار انہوں نے بدنام زنانہ قانون ایف سی آر کے تحت شکیل آفریدی کو سزا سنائی جس کے لیے ان کی اطلاع کے مطابق تمام قانونی ضابطے پورے نہیں کیے گئے۔

معروف قانون دان نور عالم ایڈووکیٹ کا اس بارے میں کہنا ہے کہ در اصل بندوبستی علاقے میں عدلیہ آزاد ہے اور یہاں سرکار کو تمام شواہد پیش کرنا ہوتے جو شائد سرکار کے پاس نہیں تھے اس لیے ایف سی آر کے تحت سزا دلوائی گئی ہے۔

نور عالم ایڈووکیٹ نے ایف سی ار کے قانون پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ دو ہزار گیارہ میں اس میں ترامیم کی گئی ہیں لیکن یہ ایک کالا قانون ہے اور اسے قومی اور بین الاقوامی سطح پر بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

لطیف آفریدی ایڈووکیٹ کے مطابق پولیٹکل انتظامیہ نے جو سزا سنائی ہے اس کے لیے انہیں معلوم نہیں ہے کہ جرگے میں کون لوگ شامل تھے اور آرڈر آف ریفرنس میں کیا شامل ہے اور کس بنیاد پر سزا سنائی گئی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جیسے کہا جا رہا ہے کہ شکیل آفریدی پر غداری کا جرم ثابت ہوا ہے یہ مبالغہ ہے کیونکہ غداری کے حوالے سے انیس سو تہتر کے قانون کے تحت آرٹیکل چھ میں غداری کا مقدمہ قائم ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو سزا سنائی گئی ہے یہ بہت زیادہ ہے کیونکہ گزشتہ دنوں پشاور ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ یہ سزائیں یہ ضابطہ فوجداری کے دفعہ پینتیس کے تابع ہیں اور یہ تمام سزائیں مل کر کل چودہ سال سے زیادہ نہیں ہو سکتے۔

اب ماہرین قانون یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر یہ سب کچھ پاکستان کے بندو بستی علاقے میں ہوا ہے تو پھر قانونی کارروائی بھی پاکستان کے قوانین کے تحت ہونا چاہیے جو بندو بستی علاقوں میں رائج ہے نہ کہ اسے قبائلی علاقوں کے قانون کے تحت کیا جانا چاہیے۔

ایک سوال یہ بھی اٹھایا گیا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی قبائلی علاقوں میں سرکار کے ملازم تھے اور ان پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے سرکار کی مرضی اور سرکار کو بتائے بغیر اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے۔ اس بارے میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو نوکری سے برخواست کرنے کا فیصلہ چونکہ صوبائی حکومت نے کیا تھا اس لیے وہ صوبائی حکومت کے ملازم تھے۔

اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ڈاکٹر شکیل آفریدی کسی فورم پر اپیل کا حق رکھتے ہیں یا نہیں تو اس بارے میں ماہرین کہتے ہیں کہ ایف سی آر کے تحت سنائی جانی والی سزا کے خلاف متعلق ایجنسی کے قریب واقع ڈویژن کے کمشنر کے پاس سیکشن انچاس کے تحت اپیل کی جا سکتی ہے۔

اسی بارے میں