میر علی: ڈرون حملے میں آٹھ غیر ملکی ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج ہوتا رہتا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کی مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایک امریکی ڈرون حملے میں آٹھ غیر ملکی ہلاک ہوگئے ہیں۔

یہ شمالی وزیرستان میں دو روز میں ہونے والا دوسرا ڈرون حملہ ہے۔

مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا کہ یہ واقعہ جمعرات کو علی الصبح میر علی کے نواحی گاؤں ایسو خیل میں پیش آیا جہاں داوڑ قبیلہ آباد ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی جاسوس طیارے نے ایسو خیل میں واقع ایک مکان پر دو میزائل داغے جس سے مکان مکمل طور پر تباہ ہوگیا جبکہ اس سے متصل مسجد کو نقصان پہنچا۔

اہلکار کے مطابق حملے کے وقت مکان میں آٹھ غیر ملکی باشندے موجود تھے جن میں سے پانچ موقع پر ہلاک ہوگئے جبکہ تین زخمیوں نے بعد میں دم توڑ دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد کا تعلق ترکمانستان سے تھا۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی لاشیں حافظ گل بہادر گروپ کے طالبان لے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکی غیر سرکاری اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں میں دو ہزار چار سے لے کر اب تک تین سو سے زائد کے قریب ڈرون حملے ہوچکے ہیں جن میں ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں۔

پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج ہوتا رہتا ہے اور ان حملوں کے مخالفین کا کہنا ہے کہ ان میں زیادہ تر بے گناہ افراد نشانہ بنتے ہیں۔

عموماً دیکھا گیا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات جب بھی تلخی کا شکار ہوئے ہیں ڈرون حملوں کا سلسلہ بھی تعطل کا شکار رہا ہے تاہم یہ تعطل مستقل بندش کی شکل اختیار نہیں کر سکا۔

اسی بارے میں