’امریکہ پاکستانی قوانین کا احترام کرے‘

شکیل آفریدی تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ کی عدالت نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو امریکہ کے لیے جاسوسی کے الزام میں تیس سال قید کی سزا سُنائی تھی

پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، امریکہ کوپاکستانی قوانین اورعدالتوں کا احترام کرنا چاہیے۔

جمعرات کو ہفتہ واربریفنگ دیتے ہوئے دفترخارجہ کے ترجمان معظم احمد خان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے اور شکیل آفریدی کوپاکستانی قوانین کے مطابق سزا ہوئی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ امریکہ کو پاکستانی قوانین اورعدالتوں کا احترام کرنا چاہیے۔ ایک سوال پر کہ اگر امریکہ شکیل آفریدی کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالے تو پاکستان کا ردعمل کیا ہوگا؟ ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ اس پر قیاس آرائی نہیں کرسکتے۔

یاد رہے کہ تحصیل باڑہ کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ کی عدالت نے بدھ کو ڈاکٹر شکیل آفریدی کو امریکہ کے لیے جاسوسی کے الزام میں تیس سال قید کی سزا سُنائی تھی۔ ایف سی آر کے تحت ان پر ساڑھے تین لاکھ روپے جُرمانہ بھی عائد کیا اور جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں وہ مزید تین سال جیل میں گزاریں گے۔

اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کی طرف سے سزا سُنانے کے بعد ڈاکٹر شکیل آفریدی کو سنٹرل جیل پشاور منتقل کر دیا گیا ہے جہاں وہ اپنی سزا پوری کریں گے۔

صوبائی محکمہ صحت نے القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کے بارے میں امریکیوں کو معلومات فراہم کرنے کے الزام میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کو پہلے ہی نوکری سے برطرف کر دیا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان نیٹو کے اجلاس میں بہت زیادہ امیدیں لے کر نہیں گیا تھا اور وہ اس کانفرنس میں افغانستان کےلیے شریک ہوا تھا۔ ایک سوال پر کہ نیٹو کانفرنس میں شرکت کرنے والے پاکستانی صدر آصف علی کانفرنس کے آخری روز شرکاء کے گروپ فوٹو میں شامل نہیں تھے، ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں معلومات اکھٹی کر کے آگاہ کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں ترجمان کا کہا تھا کہ اُنہیں معلوم نہیں ہے پاکستان میں ڈرون حملوں کے لیے کس ہمسایہ ملک کا ائربیس استعمال ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں