پاکستان: ڈالر کے مقابلے روپے کی قیمت میں کمی

پاکستان کا دس روپئے کا نوٹ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان میں بھارت کے مقابلے روپئے کی قیمت کم گری ہے

ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ کی قدر میں نمایاں کمی ہوئی ہے اور اس وقت انٹربینک میں فی ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح بانوے روپے اٹھارہ پیسے پر فروخت ہو رہا ہے جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر ترانوے روپے چالیس پیسے میں فروخت ہو رہا ہے۔

پاکستان میں کرنسی کا تبادلے کرنے والوں کی ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک بوستان کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں ڈالر مستحکم ہو رہا ہے اور اس وقت صرف روپیہ ہی نہیں بلکہ دنیا کی تمام کرنسیز ڈالر کے مقابلے میں دباؤ کا شکار ہیں جن میں یورو اور پاؤنڈ بھی شامل ہیں۔

ان کرنسیز کی قیمت گرنے کی وجہ سے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے وطن رقم بھیجنا کم کردیا ہے کیونکہ اس وقت ایک سو ساٹھ کی بجائے ایک سو پاؤنڈ کے بدلے صرف ایک سو چھپن ڈالر مل رہے ہیں اور سویورو کے بدلے ایک سو اکتیس کی بجائے صرف ایک سو پچیس ڈالر مل رہے ہیں۔

ان کے مطابق بھارت اور سری لنکا کی کرنسیز کی قدر میں پانچ روپے تک کی کمی آئی ہے جب کہ پاکستانی روپیہ صرف دو روپے ہی گرا ہے۔

ملک بوستان کے مطابق شکاگو کانفرنس میں امریکا اور پاکستان کے درمیان مصالحت نہیں ہوسکی ، امریکہ نے دو ارب ڈالر کا اتحادی مددگار فنڈ بھی روک رکھا ہے جبکہ پاکستان کو اسی سال عالمی مالیاتی فنڈ کو تقریباَ َ چار ارب ڈالر کی قسط بھی ادا کرنی ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ تین ماہ بعد حج آپریشن شروع ہونے والا ہے اور عازمین حج کی بڑی تعداد نے ڈالرز کی خریداری شروع کردی ہے جس کی وجہ سے ڈالر کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مانگ میں جیسے کمی آئی گی تو پاکستانی روپیہ دوبارہ مضبوط ہوگا جیسا کہ پچھلے حج سے پہلے ڈالر بانوے روپے کا ہوگیا تھا اور بعد میں نواسی روپے پر آگیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کو یہ سوچ کرڈالر نہیں خریدنا چاہیے کہ اس کی قدر بڑھ جائےگی کیونکہ اس طرح ڈالر مہنگا ہونے سے افراطِ زر بڑھ جاتا ہے۔