’نااہلی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سپیکر ایک آئینی عہدہ ہے اور اس کا احترام کرنا چاہیے، فہمیدہ مرزا

پاکستان کی قومی اسمبلی کی سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے توہین عدالت کیس میں سزا یافتہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی نا اہلی کو مسترد کرنے کی رولنگ جاری کردی ہے۔

چار صفحات پر مشتمل رولنگ میں انہوں نے آئین اور توہینِ عدالت کی شقوں، سپریم کورٹ کے ماضی میں دیے گئے احکامات اور سپیکر کی سابقہ رولنگز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم کو توہین عدالت کیس میں ملنے والی سزا کے مطابق ان کی نا اہلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

سپیکر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی پر جو فرد جرم عائد کی ہے اس کے تحت انہیں نا اہلی کی سزا نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے مولوی اقبال حیدر کی جانب سے وزیراعظم کی نا اہلی کے لیے دائر کردہ پٹیشن بھی مسترد کردی ہے۔ سپیکر کے بقول وہ میرٹ پر نہیں تھی۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی رولنگ کا ایک اہم نکتہ مخدوم جاوید ہاشمی کو سیشن کورٹ کی جانب سے ملنے والی سزا کے حوالے سے ہے۔

جس میں انہوں نے کہا ہے کہ جب چھبیس اگست سنہ دو ہزار چار کو قائدِ ایوان کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی دائر کیے تو اس وقت کی حکومت نے انہیں ملنے والی سزا کی بنیاد پر کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کی استدعا کی تھی جو اس وقت کے سپیکر نے مسترد کرتے ہوئے انہیں قائد ایوان کا الیکشن لڑنے کے لیے اہل قرار دیا تھا۔

ڈاکٹر فہمیدہ مرزانے توہین عدالت کیس کے مختصراور بعد میں تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد سپریم کورٹ کے اسسٹنٹ رجسٹرار کی جانب سے براہ راست لکھے گئے خط کے تناظر میں کہا ہے کہ خط کے مندرجات اور طریقہ کار پر انہیں سخت تشویش ہے۔ ان کے بقول سپیکر کا عہدہ اعلیٰ آئینی عہدہ ہے جس کا احترام ریاست کے تمام اداروں اور حکومتی اہلکاروں پر فرض ہے۔

سپیکر نے رولنگ میں سپریم کورٹ کے سنہ انیس سو پچانوے کے ایک حکم کا حوالہ بھی دیا ہے۔ ان کے بقول کنور انتظار محمد خان بمقابلہ وفاق پاکستان میں عدالت اعظمیٰ قرار دے چکی ہے کہ سپیکر کا آفس محض پوسٹ آفس نہیں کہ کوئی چیز آئے تو اُسے چیف الیکشن کمشنر کو بھیج دے۔ بلکہ عدالت نے کہا ہے کہ سپیکر کو اپنا ذہن اور سوچ استعمال کرتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہیے۔

اسی بارے میں