پشین: غیر سرکاری تنظیم کا مغوی اہلکار قتل

balochistan تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام کے چھ اہلکاروں کے اغواء کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی۔

بلوچستان کے علاقے پشین سے غیر سرکاری تنظیم کے اغوا ہونے والے اہلکاروں میں سے ایک اور اہلکار کو تاوان نہ ملنے پر اغوا کاروں نے قتل کر دیا ہے۔

طالبان نے گزشتہ سال تیرہ دسمبر کو بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے برشور سے بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام ( بی آرایس پی) کے چھ اہلکاروں کے اغواء کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقے سمبازہ میں متوئی کے مقام پر گذشتہ روز چرواہے کو ایک لاش ملی ہے جس کے ساتھ پڑی ایک پرچی پر طالبان کی جانب سے تحریر تھا کہ ’یہ لاش ( بی آرایس پی) برشور آفس کے چوکیدار عبدالغفور کی ہے‘۔ بعدازاں چرواہے نے لاش قریبی مدرسے میں پہنچا دی تھی۔

عبدالغفور کے رشتہ دار محمد دین لالا نے لاش ملنے کی تصدیق کرتے ہونے بتایا کہ سبازہ میں ایف سی حکام نے لاش ورثاء کے حوالے کردی جسے ورثاء شناخت کرنے کے بعد سبازہ سے ژوب لے گئے۔

ڈپٹی کمشنر پشین منصور کاکڑ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لاش ملنے کی تصدیق کی اور بتایا کہ ژوب انتظامیہ ورثاء کی حفاظت کے لیے تمام وسائل بروکار لارہی ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل طالبان کے شاہین گروپ نے تاوان کی عدم ادائیگی پر بیس مارچ کو ایک اور اہلکار مقبول احمد کو قتل کرکے اس کی ویڈیو فلم بھیج دی تھی لیکن تاحال مقبول کی لاش ورثاء کے حوالے نہیں کی گئی ہے۔

مقبول کی ہلاکت کے بعد طالبان نے سینیئر سوشل آرگنائزر سید مجیب الرحمان ولد سید عتیق اللہ، بشیراحمد ولد شمس محمد، آفتاب احمد ولد محمد سلطان جونیئر سوشل آرگنائزر، بور محمد کاکڑ ولد نظیر احمد اور عبدالغفور ولد محمد علی کی رہائی کےلئے تیئس کروڑ روپے تاوان طلب کیا تھا جس کے لیے لواحقین نے کوئٹہ میں چندہ اکٹھا کرنا شروع کیا۔ تاہم مطلوبہ رقم نہ ملنے کے باعث طالبان نے (بی آر ایس پی) کے دوسرے اہلکار عبدالغفور ولد محمد علی کو بھی قتل کر دیا۔

یاد رہے کہ بلوچستان کے اکثر وزرا نے اس اقدام کو غیر انسانی فعل قرار دیا۔ جمعیت علماءاسلام سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر مولوی عبدالباری نے کہا تھا کہ ’اسلام کسی کو کسی کی جان لینے کی اجازت نہیں دیتا ہے اور جو لوگ اس میں ملوث ہیں وہ پیسوں کے حصول کے لیے اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔‘

عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر زمرک خان اچکزئی نے اغوا برائے تاوان کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’صوبائی حکومت مغوی اہلکاروں کی بحفاظت بازیانی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔‘

غیر سرکاری تنظیم (بی آر ایس پی) بلوچستان کے دور آفتادہ اور پسماندہ علاقوں میں تعلیم، صحت اور عوام کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کے علاوہ مختلف منصوبوں پر کام کررہی ہے تاکہ ان علاقوں میں غریب عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنایا جا سکے۔

یاد رہے کہ بین الاقوامی ریڈکراس کمیٹی سے وابستہ برطانوی ڈاکٹر خلیل کو بھی اغوا کے بعد طالبان انتیس اپریل کو قتل کر دیا گیا جس کے بعد آئی سی آر سی نے کوئٹہ سمیت پورے ملک میں اپنی سرگرمیاں معطل کردی ہیں۔

ادھر بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام ( بی آر ایس پی) عبدالغفور کی لاش ملنے پر تین روز ہ سوگ منانے کا اعلان کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اغوا کاروں کی تحویل میں باقی چار اہلکاروں کی بحفاظت بازیابی کو یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کیے جائیں تاکہ بلوچستان میں فرائض انجام دینے والے غیر سرکاری اداروں کے اہلکاروں میں احساس تحفظ یقینی بن سکے۔

اسی بارے میں