کوئٹہ: غیرقانونی گاڑیوں کے خلاف مہم

کوئٹہ میں کار کی تلاشی کی فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کوئٹہ شہر میں غیر قانونی گاڑیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے

پاکستان میں سپریم کورٹ کے حکم پر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں غیر قانونی گاڑیوں کے خلاف مہم کا آغاز ہوگیا ہے۔

کسٹم حکام نے بڑی تعداد میں غیر قانونی گاڑیاں تحویل میں لی ہیں لیکن ان گاڑیوں کے مالکان کی جانب سے کسٹم حکام کو مزاحمت کا سامنا ہے اور اس دوران تین کسٹم اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگارایوب ترین کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم پر کسٹم حکام نے کوئٹہ شہر میں غیرقانونی گاڑیوں کو تحویل میں لینے کا سلسلہ شروع کردیاہے اس کےعلاوہ مختلف شو رومز پر چھاپے بھی مار ے جا رہے ہیں۔

شہباز ٹا‎ؤن میں غیر قانونی گاڑی کے ایک مالکان نے اس وقت کسٹم اہلکاروں کے ساتھ بدسلوکی کی جب انہوں نے شوروم سے غیر قانونی گاڑیوں کو تحویل میں لینے کی کوشش کی۔

اس بارے میں کسٹمز کے ایک اہلکار جمیل کاکڑ نے بتایا کہ کوئٹہ شہر میں غیر قانونی گاڑیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور عوام کوچاہیے کہ وہ خود ان گاڑیوں کو کسٹم آفس میں جمع کردیں۔

غیرقانونی گاڑیوں کا کاروبار کرنے والے اور مرکزی انجمن تاجران بلوچستان سپریم کورٹ کے خلاف مظاہرے بھی کیے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جوگاڑیاں اس وقت بلوچستان میں موجود ہیں ان پرمناسب ٹیکس لگا کرانہیں رجسٹرکیاجائے۔

اس بارے میں ممتاز قانون دان سہیل راجپوت کا کہناہے کہ کسٹم حکام کو بلا امتیاز کارروائی کرنی چاہیے اور عام شہریوں کی گاڑیاں پکڑنے کے ساتھ ساتھ بااثرافراد کی گاڑیوں پر بھی ہاتھ ڈالنا چاہیے۔ بقول انکے ابھی کسی بااثرشخص کی گاڑی پرہاتھ نہیں ڈالاگیا ہے۔

خیال رہے کہ کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ، اغواء برائے تاوان، بم دھماکوں اور بدامنی کے زیادہ تر واقعات میں غیرقانونی گاڑیاں استعمال ہوئی ہیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے گزشتہ دنوں کوئٹہ میں قیامِ امن کے لیے فوری طور پرغیرقانونی اور ان رجسٹرڈ موٹرسائیکلوں کے خلاف کارروائی کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

پولیس اور فرنٹیئرکور کوحکم دیا تھا کہ غیرقانونی گاڑیوں کی روک تھام میں کسٹم حکام کے ساتھ تعاون کریں۔

کسٹم حکام کے مطابق بلوچستان میں غیر قانونی گاڑیوں کی تعداد پچاس ہزار سے زائد ہے جن میں اکثربعض وزراء، اعلیٰ حکومتی عہدیدار، پولیس افسران، بعض سیاسی و قبائلی شخصیات کے علاوہ تاجر رہنماؤں کے زیرِاستعمال ہیں۔

اسی بارے میں