’بس پر حملہ صرف دہشت پھیلانے کے لیے کیا گیا ہے‘

Image caption ظہور خان اپنے بھائی کی میت کے منتظر ہیں۔

’ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں، بس پر حملہ صرف دہشت پھیلانے کے لیے ہی کیا گیا ہے!‘ یہ الفاظ ہیں بس ڈرائیور عبدالغفار کے چھوٹے بھائی ظہور خان کے جو اپنے بھائی کی میت کے انتظار میں گھر کے سامنے بیٹھے تھے۔

جمعے کے روز صوبہ سندھ کے شہر بینظیر آباد میں جس بس پر حملہ کیا گیا عبدالغفار اس کے ڈرائیور تھے۔ ان کا تعلق صوبہ پنجاب کے شہر میانوالی سے تھا اور وہ یہ بس گزشتہ پانچ سال سے چلا رہے تھے۔ عبدالغفار کے بھائی ظہور خان سابقہ یونین کونسل ناظم ہیں۔

ظہور خان نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کسی سے دشمنی نہیں ہے اور یہ واقعہ صرف اور صرف دہشت پھیلانے کے لیے کیا گیا ہے۔

میانوالی کے قریب موسی خیل میں اپنے آبائی مکان کے سامنے سوگ میں بیٹھے افراد عبدالغفار کی میت کا انتظار کر رہے ہیں۔ ظہور خان کے مطابق علاقے سے لوگ موقع پر پہنچ چکے ہیں اور وہاں سے میت لے کر موسیٰ خیل پہنچیں گے۔

عبدالغفار گزشتہ پانچ سال سے کراچی سے مانسہرہ تک بس چلا رہے تھے۔ ظہور خان کے مطابق عبدالغفار ہر چند روز کے بعد اپنے بچوں سے ملنے آتے تھے تاہم زیادہ تر وقت کام میں ہی گزارتا تھا۔ عبدالغفار کے دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں جنھیں یہ یقین نہیں آ رہا کہ ان کے والد اب اس دنیا میں نہیں رہے۔

ظہور خان نے بتایا کہ انھیں جو اطلاع ملی ہے اس کے مطابق دو افراد نے بس روکنے کا شارہ کیا اور کہا کہ آگے کچھ سواریاں ہیں جو میانوالی جانا چاہتیں ہیں۔ انھوں نے کہا کچھ آگے گئے تو وہاں ایک پل کے قریب کچھ لوگ موجود تھے جنھوں نے پہلی گولی ان کے بھائی پر چلائی۔ گولی ان کے بھائی کی گردن میں لگی جس کے بعد مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کی۔

انھوں نے کہا کہ بس میں سوار دیگر افراد کے بارے میں انھیں معلوم نہیں ہے لیکن ایک شخص سمیع اللہ کا تعلق بھی میانوالی کے علاقے موسی خیل سے ہے۔

اسی بارے میں