’مذاکرات میں ویزے میں سہولت پر اتفاق‘

پاکستان اور بھارت کے وزراء(فائل فوٹو) تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مذاکرات میں دونوں جانب کے سول انٹیلی جنس ایجنسیوں کے حکام بھی شریک ہیں

پاکستان اور بھارت کے درمیان داخلہ سیکرٹریز کی سطح پر مذاکرات کا دوسرا اور آخری دور جمعہ کو پرفضا مقام بھوربن میں منعقد ہو رہا ہے۔

ان مذاکرات کا آغاز جمعرات کو اسلام آباد میں ہوا تھا اور سفارتی ذرائع کے مطابق پہلے دن کی بات چیت میں عوام اور کاروباری حضرات کو ویزا سہولیات دینے اور مچھیروں سمیت عام قیدیوں کی رہائی کے معاملات پر اتفاق ہوا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ویزے کی سہولیات دینے پر فریقین میں کافی پیش رفت ہوئی ہے جس میں ’گروپ ٹورسٹ ویزا‘ جاری کرنے، واہگہ بارڈر پر بزرگ شہریوں اور بچوں کو ‘آن ارائیول‘ ویزے دینے، کاروباری شخصیات کو ملٹی پل ویزے جاری کرنے کی تجاویزات پر فریقین میں تقریباً اتفاق ہوچکا ہے۔

سفارتی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ بھارتی وفد نے مذاکرات میں پاکستان سے جعلی کرنسی سمگل ہونے، سرحد پار دہشت گردی اور منشیات کی سمگلنگ کے معاملات اٹھائے جبکہ پاکستان نے بلوچستان میں بھارتی مداخلت کا شکوہ کیا۔

ان مذاکرات میں بھارتی وفد کی قیادت ہوم سیکرٹری آر کے سنگھ جبکہ پاکستانی وفد کی سربراہی ان کے ہم منصب خواجہ صدیق اکبر کر رہے ہیں۔ اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر نے بتایا ہے کہ مذاکرات میں دونوں جانب کی سول انٹیلی جنس ایجنسیوں کے حکام بھی شریک ہیں۔

جمعرات کو اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت کے بارے میں سرکاری طور پر فریقین نے کچھ نہیں بتایا اور اطلاعات کے مطابق جمعہ کو مذاکرات کی تکمیل پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔

جمعرات کو وفود کی سطح پر ہونے والی بات چیت میں پروگرام کے مطابق ممبئی حملوں اور سمجھوتہ ایکسپریس کے واقعات کی تحقیقات میں پیش رفت، سرحد پار دہشتگردی روکنے، بلوچستان میں بھارتی مداخلت، جعلی کرنسی اور منشیات جیسے معاملات پر بھی بات چیت ہوئی۔

مذاکرات کے اختتام پر صحافیوں سے مختصر بات چیت میں بھارتی وفد کے سربراہ نے کہا کہ ممبئی حملوں میں حافظ سعید کی گرفتاری کے لیے اضافی ثبوت پاکستان کو دیے گئے ہیں لیکن اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ممبئی حملوں اور سمجھوتہ ایکسپریس پر حملے کا تقابل نہ کیا جائے کیونکہ ان کے بقول ممبئی حملے سرحد پار دہشتگردی کا معاملہ ہے جبکہ سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ بھارت کا داخلی معاملہ ہے۔

واضح رہے کہ دونوں ممالک میں داخلہ سیکرٹریز کی سطح پر بات چیت کا پچھلا دور مارچ سنہ دو ہزار گیارہ میں دلی میں ہوا تھا۔

اسی بارے میں