بینظیر آباد: بس پر اندھا دھند فائرنگ، آٹھ ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دو حملہ آور بس کے اندر موجود تھے جبکہ چار افراد نے باہر سے فائرنگ کی

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع بینظیر آباد میں ایک مسافر بس پر فائرنگ کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک اور دس زخمی ہوگئے ہیں۔

یہ واقعہ جمعہ کو کراچی سے تقریباً تین سو کلومیٹر دور قاضی احمد کے مقام پر اس وقت پیش آیا جب مسلح افراد نے کراچی سے خیبر پختونخواہ کے شہر اٹک جانے والی مسافر بس پر اندھادھند فائرنگ کر دی۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ڈی آئی جی پولیس ثناء اللہ عباسی کا کہنا ہے کہ سکرنڈ کے قریب سے دو افراد مسافر کے روپ میں اس بس میں سوار ہوئے تھے، انہوں نے قاضی احمد کے قریب بس کو ضروری کاغذات وصول کرنے کے بہانے سے روکا جہاں پانچ لوگ کھڑے تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق یہ افراد نے بس پر زبردسستی سوار ہو گئے اور ان کے پاس خودکار ہتھیار تو نہیں تاہم پستولیں تھیں۔

فائرنگ کے بعد حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے اور مقامی لوگوں نے فائرنگ سے زخمی ہونے والے دس افراد کو ہسپتال پہنچایا۔ اس حادثے میں ہلاک ہونے والے بس کے ڈرائیور کا تعلق میانوالی سے بتایا جاتا ہے۔

بس میں کل اٹھاون مسافر سوار تھے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

پولیس کے مطابق قاضی احمد ہپستال میں سات لاشیں پہنچائی گئی ہیں جن میں میانوالی، اٹک اور صوابی کے دو، دو جبکہ ٹیکسلا سے تعلق رکھنے والا ایک شخص شامل ہے۔

ڈپٹی کمشنر بینظیر آباد رشید احمد زرداری کا کہنا ہے کہ کراچی سے میت گاڑی منگوائی گئی ہے اور غسل و کفن کے بعد لاشوں کو تابوت میں بند کر کے روانہ کیا جائے گا۔

پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں جائے وقوع سے کچھ نشانیاں ملی ہیں، جس کی بنیاد پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

اسی بارے میں