سزا کے خلاف اپیل دائر نہیں کریں گے، اعتزاز احسن

اعتزاز احسن تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جاسکتا ہے تاہم اس بارے کوئی بھی درخواست سپریم کورٹ میں نہیں بلکہ ہائی کورٹ میں ہی دائر کی جاسکتی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کو توہینِ عدالت کیس میں ملنے والی سزا کے خلاف اپیل دائر نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس بات کا اعلان وزیرِ اعظم کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن نے سنیچر کو لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ وزیر اعظم اپنی تیس سیکنڈ کی سزا کاٹ چکے ہیں اور نااہل ہوئے نہیں اس لیے یہ اتفاق رائے پیدا ہوا ہے کہ اپیل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کہ پارٹی میں اکثریتی رائے ہے کہ مقدمہ مضبوط ہونے کے باوجود اپیل کرنے سے شاید نقصان ہوسکتا ہے۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ انہوں نے سزا کے خلاف اپیل تیار کر لی تھی تاہم وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے انہیں رات گئے اپیل دائر نہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ سزا کے خلاف اپیل میں ایک سو چھیالیس اعتراضات اٹھائے گئے تھے تاہم پیپلز پارٹی کی اعلیٰ ترین قیادت مشاورت کے ساتھ مشترکہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس سزا کے خلاف اپیل دائر نہ کی جائے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ وزیر اعظم کو چھبیس اپریل کو جو سزا سنائی گئی تھی اس کے خلاف اپیل دائر کرنے کی قانونی معیاد سنیچر یعنی چھبیس مئی کو ختم ہو گئی ہے۔

ایک سوال پر وزیرِ اعظم کے وکیل نے تسلیم کیا کہ ان کے مؤکل یوسف رضا گیلانی سزا یافتہ ہیں لیکن تضحیک عدالت کے مرتکب نہیں ہوئے اس لیے وہ آئین اور قانون کے تحت نااہل نہیں ہیں۔

بیرسٹر اعتراز احسن نے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ کیا انہوں نے اپنے مؤکل وزیر اعظم کو اپیل دائر کرنے کا مشورہ دیا تھا یا نہیں۔ اعتراز احسن نے کہا کہ وکیل اپنے مؤکل کو جو مشورہ دیتا ہے اس کو بتایا نہیں جاتا ہے۔

اعتراز احسن نے سپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کا دفاع کیا اور کہا کہ ان کی نگاہ میں سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے جو فیصلہ دیا وہ درست ہے اور ان کے اعتراضات کے مطابق دیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم کے وکیل کا کہنا تھا کہ یوسف رضا گیلانی آئندہ انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔ان کے بقول اگر توہین عدالت کے الزام میں سزا برقرار رہے تو اس صورت میں بھی ریٹرننگ آفیسر یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار نہیں دے سکتا کیونکہ نااہل قرار دینے کے لیے کم از کم دوسال کی سزا ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ وریز اعظم کو چند سکینڈوں کی سزا ہوئی ہے اور اسی بناء پر وہ آئندہ انتخاب کے لیے نااہل نہیں ہوئے۔

بیرسٹر اعتراز احسن نے اس بات کی نفی کی کہ سپیکر قومی اسمبلی کا کردار کسی رکن کی نااہلی کے لیے ریفرنس بھجوانے کے معاملے میں ایک ڈاکخانے جیسا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سپیکر کی رولنگ کے بعد الیکشن کمیشن کی طرف سے وزیر اعظم کی نااہلی کے معاملے پر کارروائی کرنے کا دروازہ بند ہوگیا ہے۔

وزیر اعظم کے وکیل نے وضاحت کی کہ الیکشن کمیشن ان دو صورتوں میں کارروائی کرسکتا ہے کہ اگر سپیکر وزیراعظم کے خلاف ریفرنس بھیج دیتی یا پھر تیس دنوں تک اس ریفرنس کو کمیشن میں نہ بھیجا جاتا تو اس صورت میں الیکشن کمیشن کو کارروائی کا اختیار حاصل تھا لیکن اب صورت حال مختلف ہے کیونکہ سپیکر نے رولنگ دے دی ہے۔

دیگر سوال کے جواب میں انہوں نےکہا کہ سپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جاسکتا ہے تاہم اس بارے کوئی بھی درخواست سپریم کورٹ میں نہیں بلکہ ہائی کورٹ میں ہی دائر کی جاسکتی ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی بجٹ منظور کرسکتے ہیں کیونکہ وہ اسمبلی کی بنیادی رکنیت سے نااہل نہیں ہوئے ہیں۔

ایک سوال پر بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ وزیر اعظم کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے تین طریقہ ہیں وہ استعفیٰ دیں یا ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو یا وہ اپنی اسمبلی کی بنیادی رکنیت سے ناہل ہوجائیں اور ایسی کوئی صورت حال نہیں ہے۔

اسی بارے میں