’بلوچستان میں سویلین حکمرانی قائم کی جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بلوچستان کے موجودہ حالات کی ذمہ داری دوسری پر نہیں ڈالی جا سکتی، ذمہ دار ہم خود ہیں: نواز شریف

پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان کے مسئلے پر اسلام آباد میں ہونے والی ایک ملک گیر کانفرنس نے متفقہ قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان چھاؤنی کی سیاست بند کر کے وہاں سویلین حکمرانی قائم کی جائے جو لوگوں کی خواہشات کی ترجمانی کرتی ہو۔

پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوی ایشن نے اس کانفرنس کا اہتمام کیا تھا جس سے ملک کی تمام ہی سرکردہ سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے علاوہ سول سوسائٹی کے نمائندوں نے خطاب کیا اور ان سب کی تقاریر میں ایک بات یکساں نظر آئی اور وہ یہ کہ بلوچستان میں جو بھی بگاڑ پیدا ہوا ہے، اس کی ذمہ دار پاکستان کی سکیورٹی انتظامیہ ہے۔

پاکستانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی سے متعلق کمیٹی کے سربراہ رضا ربانی نے کہا میں یہ بات تسلیم کرتا ہوں کہ ان کی حکومت کی طرف سے اب تک کیے جانے والے معاشی اور سیاسی اصلاحات کا بلوچستان میں اس لیے اثر نہیں پڑا کیونکہ بلوچستان میں مسخ شدہ لاشیں ملنا اور لوگوں کا لاپتہ ہونا معمول ہے۔

ان کا کہنا ہے ’لاپتہ افراد کے معاملے پر یہ بات بڑی حد تک واضح ہے کہ یہ ریاست یا ریاست کے کسی ادارے کی پالیسی کے طور پر قابل قبول نہیں ہے کہ لوگوں کو اغوا کیا جائے، لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جائے اور پھر ان کی لاشیں پھینکی جائیں۔ یہ ایسی بات ہے کہ جو قابل قبول نہیں ہے، یہ ایسی بات ہے جو ناقابل برداشت ہے۔‘

پنجاب کی حکمران اور مرکز میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف تو یہ تک کہہ گئے کہ بلوچستان میں لوگوں کو بغاوت پر اکسایا گیا ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ ’یہ (بلوچ) جو باغی بن گئے ہیں میں سمجھتا ہے ہوں کہ ان کے پاس اس کا جواز ہے۔ آپ جب کسی کے ساتھ اس طرح کا سلوک کریں گے تو وہ ایک نہ ایک دن باغی بنے گا اور بغاوت پر اتر آئے گا اور پھر آپ پچھتائیں گے کہ ہم نے ایسا کیوں کیا۔‘

مسلم لیگ نے رہنما نے کہا ’یہ ہمارا اپنا کیا دھرا ہے، ہم خود اس کے ذمہ دار ہیں۔ پاکستان کے ساتھ جو گزری ہے اس کے لیے دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے ہمیں خود اس کی ذمہ داری قبول کریں اور ہم کہیں کہ ہم اس کے ذمہ دار ہیں اور اب ہمیں اسے ٹھیک کرنا ہے۔‘

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ ’بلوچستان کا مسئلہ اس لیے پیدا ہوا کیوں کہ ہم نے اس کو ایک کالونی کی طرح رکھا اور وہاں طاقتور کو اور مضبوط کیا گیا اور ان کے ذریعے بلوچ قوم پر حکومت کی گئی، اس کا نتیجہ کیا ہوا؟ تھوڑے سے لوگ طاقتور ہوگئے اور بیچاری بلوچ قوم غریب ہوتی گئی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’بلوچستان کے حل کے لیے سب سے پہلے ہر اس بلوچ کو غیر مشروط عام معافی دی جائے جس کو دہشتگرد قرار دیا گیا ہے، بلوچستان کے مسئلے کا حل تلاش کرنا سیاست دان کے ہاتھ میں ہو اور کسی مسئلہ کا فوجی حل نہیں نکالا جاسکتا ہے’۔

انھوں نے کہا کہ بلوچستان کے وسائل کا استحصال کیا گیا اور لوگوں کی جائز شکایات ہیں۔

اس کانفرنس کے اختتام پر جاری ہونے والے اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بلوچستان چھاؤنی کی سیاست بند کرکے وہاں سویلین حکمرانی قائم کی جائے جو لوگوں کی خواہشات کی ترجمانی کرتی ہو۔

اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سیاسی بات چیت کے ساتھ ساتھ تمام فوجی اور نیم فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر بند کیا جانا چاہیے اور فوج اور فرنٹئیر کانسٹیبلری یعنی ایف سی کو چھانیوں میں واپس بھیجھا جائے۔

اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کا احترام کو یقینی بنانے کے لیے ایف سی اور پولیس کے لیے ایک تربیتی پروگرام شروع کیا جائے۔اس میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایف سے کو پابند کیا جائے وہ اپنے اختیارات سے تجاوز نہ کرے اور غیر قانونی اقدامات سے باز رہے۔

اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ تمام سیاسی قیدی جو ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں فی الفور رہا ہونے چاہیں۔ اس اعلامیے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ جن پر لوگوں کو لاپتہ کرنے اور مارنے کا الزام ہے کہ ان کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔

اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک بین الپارلیمانی کمیٹی کے ذریعے پاکستان کے سابق حکمران جنرل رٹیائرڈ پرویز مشرف کے دورِ حکومت سے لے کر اب تک بلوچستان میں ہونے والے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں ایک وائٹ پیپر تیار کرائی جائے اور یہ رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کی جانی چاہیے اور اس پر بحث ہونی چاہیے۔

اس میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ جنھوں نے نواب اکبر بگٹی کے قتل کا حکم دیا تھا، انھیں فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور ان کے خلاف کھلے عام مقدمہ چلا کر انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔

اس اعلامیے میں یہ تجویز دی گئی ہے کہ ایک آزاد و خود مختار کمیشن تشکیل دیا جانا چاہیے اور ان تمام افراد کو معاوضہ دیا جانا چاہیے جو شورش کے دوران ہلاک یا معذور ہوئے۔

اس اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام مذہبی جماعتوں کو اعادہ کرنا چاہیے کہ وہ برداشت اور مذہبی ہم آہنگی کا ماحول پیدا کریں اور وہ ایک دوسرے کے مذہبی عقائد کا احترام کریں۔

پاکستان کی سپریم کورٹ کی کوششوں سے چند لاپتہ افراد بازیاب ہوئے ہیں لیکن اب بھی لاپتہ بلوچوں کی بہت بڑی تعداد غائب ہے۔

اسی بارے میں