ہندوؤں کے حقوق، قانون سازی کا مطالبہ

سندھ بھر سے تعلق رکھنے والے ہندو برادری کے اجلاس میں ہندؤوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی کے لیے حکومت سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حیدرآباد میں ہونے والے اس اجلاس میں ہندو برادری کے منتخب نمائندے اور نمائندہ شخصیات نے شرکت کی۔ اجلاس میں حکمران پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی ڈاکٹر مہیش ملانی، رمیش لعل چند، کھٹو مل جیون، صوبائی وزراء مکیش چاؤلہ اور موہن لعل کوہستانی، سینٹیر ہری رام کشوری ، پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کی رکن قومی اسمبلی رینا کماری کے علاوہ کئی ممتاز ہندو نمائندہ شخصیات نے شرکت کی۔

اجلاس میں صوبائی وزیر ایکسائز ٹیکسیشن مکیش چاؤلہ کا کہنا تھا کہ ہندو پنچائت کے نمائندے منتخب نمائندوں سے رابطے نہیں رہتے ہیں اس لیے حکومت کے ترقیاتی کاموں کے لیے مختص فنڈ ضائع ہو جاتے ہیں ۔

صوبائی وزیر مکیش چاؤلہ کا کہنا تھا کہ یہ دوسری کانفرنس ہے۔ اس سلسلے کہ پہلی کانفرنس اسی ماہ کے اوائل میں کراچی میں منعقد کی گئی تھی۔

کانفرنس کے انعقاد کو سرکاری لوگوں کا شو قرار دینے والے ینگ ہندو پنچائت کے رہنما دلیپ کمار دولتانی کا کہنا تھا کہ حکو مت کے حامی افراد انتخابات سے قبل اس طرح کے اجتماع کا اہمتام کرتے ہیں ۔

صحافی ست را م مہشوری نے جو ہندو برادری کو در پیش مسائل کے سلسلے میں پیش پیش رہتے ہیں، بتایا کہ انہیں کانفرنس میں شرکت کی باقاعدہ دعوت نہیں ملی تھی جس وجہ سے وہ شریک نہیں ہوئے ۔

کانفرنس میں شریک بعض لوگوں نے مختلف نمائندہ شخصیات کو نظر انداز کرنے کی شکایت کی۔ جس کے جواب میں منتظمین کی جانب سے کہا گیا کہ صوبہ بھر سے تنتالیس ہندو پنچائتوں کے نمائندے شریک ہیں۔

کانفرنس میں شریک ضلع تھر پارکر سے پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر مہیش ملانی نے بتایا کہ کانفرنس میں قومی سطح پر ہندو پنچائت تشکیل دینے کی تجویز بھی زیر غور آئی تاکہ ہندو برادری کے معاملات کو قومی سطح پر پیش کیا جاسکے اور حکومت سے بامقصد مزاکرات کئےجاسکیں۔ اس تجویز کو ائندہ اجلاس کے لئے رکھ دیا گیا۔

اجلاس میں حیدرآباد کے ممتاز وکیل جھمٹ جھیٹا نند کی سربراہی میں ایک لیگل کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔ یہ کمیٹی اراکین پارلیمنٹ کو ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے قانونی معاملات پر گاہ بگاہے بریفنگ دیتی رہے گی۔

لیگل کمیٹی کو ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ پاکستان میں ہندو برادری کے لئے قوانین کے نفاذ کے لئے بھی تیاری کرے تاکہ حکومت سے ان کے نفاذ کے لئے کہا جائے۔

پاکستان میں ہندو برادری کے لوگوں کو سماجی معاملات پر قوانین نہ ہونے کے سبب بہت سارے مسائل کا سامنا رہتا ہے ۔

کمیٹی کہ یہ ذمہ داری بھی سانپی گئی کہ وہ کراچی میں قائم ہندو جم خانہ کے معاملے پر بھی قانونی چارہ جوئی کرے۔

اجلاس میں ایک اور کمیٹی قائم کی گئی جو سندھ بھر میں موجود ہندو پنچائتوں اور منتخب نمائندوں کے درمیاں رابطے کی ذمہ داری انجام دے گی۔