فاٹا: مسافر گاڑی پر حملہ، تین ہلاک، دو زخمی

Image caption لاشوں اور زخمیوں کو ٹل سول ہسپتال منتقل کردیاگیا ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک اور مسافر گاڑی پر حملہ کر کے تین افراد کو ہلاک اور دو کو زخمی کر دیا ہے۔

کرم ایجنسی میں ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ پیر کو صدہ سے تقریباً پندرہ کلومیٹر دور جنوب مغرب کی جانب لوئر کُرم کی تحصیل علی زئی کے علاقے چار خیل کے پہاڑی سلسلے میں نامعلوم مُسلح شدت پسندوں نے ایک اور مسافر گاڑی پر اس وقت حملہ کیا جب وہ پارہ چنار سے پشاور جا رہی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ حملے میں تین افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔ لاشوں اور زخمیوں کو ٹل سول ہسپتال منتقل کردیاگیا ہے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ حملے کے بعد سکیورٹی اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ہیں لیکن شدت پسند واقعے کے بعد پہاڑی سلسلے میں علی زئی کی طرف فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

سرکاری اہلکار نے مزید بتایا کہ گاڑی میں سوار مسافروں کا تعلق شیعہ مسلک سے تھا جس کی وجہ سے انتظامیہ کو شُبہ ہے کہ یہ ایک فرقہ وارانہ حملہ ہو سکتا ہے۔ اہلکار کے مطابق حملے میں گاڑی کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

واضح رہے کہ یہ علاقہ صدہ اور ضلع ہنگو کے علاقے ٹل کے درمیان واقع ہے اور اس علاقے میں سُنی مسلک کے افراد آباد ہے جبکہ قریب ہی علی زئی کے علاقے میں شیعہ مسلک کے افراد کی آبادیاں بھی ہیں۔

اس واقعہ سے قبل بھی کُرم ایجنسی کے مختلف علاقوں میں نامعلوم مُسلح شدت پسندوں نے مسافر گاڑیوں کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجہ میں اب تک درجنوں لوگ ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے اکثر کا تعلق شیعہ مسلک سے بتایا جاتا تھا۔

اسی بارے میں