وزیرستان: دو ڈرون حملوں میں دس ہلاک

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ہونے والے دو ڈرون حملوں میں چھ غیر ملکی جنگجوؤں سمیت دس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

گزشتہ چار روز کے دوران قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پانچ ڈرون حملے ہو چکے ہیں۔

شمالی وزیرستان میں مقامی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب کو ایک امریکی جاسوس طیارے نے تحصیل میر علی سے تین کلومیٹر دور جنوب کی جانب واقع گاؤں عیسو خیل میں ایک مکان کو دو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کے مطابق اہلکار نے بتایا کہ مکان پر دو میزائل داغے گئے اور اس میں چھ غیر ملکی جنگجو ہلاک ہو گئے ہیں تاہم ان کی شہریت کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا ہے۔

عیسو خیل گاؤں میں تقریباً گزشتہ پانچ دن کے دوران یہ تیسرا ڈرون حملہ ہے۔ جمعرات کو اسی گاؤں پر ڈرون حملے میں آٹھ غیر ملکی ہلاک ہو گئے تھے جن کا تعلق ترکمانستان سے بتایا گیا تھا۔

پیر کی شام کو ڈرون طیاروں نے ایک مرتبہ پھر شمالی وزیرستان کے قبائلی علاقے کو نشانہ بنایا۔ اس مرتبہ ان حملوں کا ہدف دتہ خیل کے علاقے میں ایک گاڑی تھی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ڈرون طیارے نے گاڑی پر دو میزائل فائر کیے جس سے اس میں سوار چار افراد ہلاک اورگاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی جاسوس طیاروں کے حملے گزشتہ کئی سال سے جاری ہیں۔ ان حملوں میں پاک امریکہ تعلقات کے دوران کمی یا وقتی تعطل آتا ہے تاہم یہ یہ حملے مکمل طور پر کبھی بند نہیں ہوئے۔

گزشتہ سال نومبر میں سلالہ میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر نیٹو کے فضائی حملے کے بعد ان ڈرون حملوں میں تعطل آیا تھا تاہم کچھ عرصے کے بعد حملوں کا آغاز دوبارہ ہو گیا۔

امریکی شہر شکاگو میں نیٹو کانفرس کے بعد سے ان ڈرون حملوں میں شدت آئی ہے، کانفرس میں شریک پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے ڈرون حملوں کا معاملہ ایک بار پھر امریکی حکام کے سامنے اٹھایا تھا۔

کانفرس کے دوران امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن سے ملاقات میں صدر زرداری نے کہا تھا کہ پاکستان ڈرون حملوں کا مستقل حل چاہتا ہے۔ تاہم امریکی حکام کا موقف رہا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں ڈرون حملے ایک موثر ہتھیار ثابت ہو رہے ہیں۔

پاکستان میں ڈرون حملوں کے خلاف سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی جانب سے کئی بار احتجاجی مظاہرے ہو چکے ہیں جبکہ پاکستانی دفتر خارجہ ان ڈرون حملوں کی مذمت بھی کر چکا ہے۔

سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد پارلیمان میں سیاسی جماعتوں نے پاکستان کے زمینی راستے سے افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو رسد کی ترسیل ڈرون حملے روکنے سے مشروط کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اسی بارے میں