’اکثر ارکان دوہری شہریت خفیہ رکھتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاکستانی پارلیمان کے دوہری شہریت کے حامل ارکان کی صحیح تعداد کوئی نہیں جانتا

پاکستان کے آئین کے مطابق غیر ملکی شہریت رکھنے والا شخص رکن پارلیمان نہیں بن سکتا لیکن اس قانون پر عملدرآمد انتالیس برس بعد یعنی رواں سال شروع ہوا ہے۔

انیس سو تہتر کا متفقہ آئین جو ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بنا، اس میں یہ شق شامل ہے لیکن ماضی میں سپریم کورٹ ہو یا الیکشن کمیشن، قومی اسمبلی ہو یا سینیٹ کسی نے اس پر عمل نہیں کیا۔

آئین میں یہ پابندی صرف اراکین سینیٹ اور قومی اسمبلی کے لیے ہے جبکہ صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کے بارے میں اس آئینی شق میں کچھ نہیں کہا گیا۔

پہلی بار آئین کی شق 63 (1) سی، کا اطلاق سپریم کورٹ نے فرح ناز اصفہانی پر کرتے ہوئے ان کی رکنیت معطل کردی ہے۔ یہ آئینی درخواست رواں سال ہی سید محمود اختر نقوی نامی شخص نے دائر کی ہے۔

آئینی درخواست میں سینیٹر اور وزیر داخلہ رحمان ملک، ساہیوال سے منتخب رکن قومی اسمبلی چوہدری زاہد اقبال اور خانیوال سے رکن قومی اسمبلی افتخار نذیر کا نام بھی شامل ہے۔ مجموعی طور پر فرح ناز اصفہانی سمیت چاروں اراکین اسمبلی کا تعلق حکمران پیپلز پارٹی سے ہے۔

پاکستانی پارلیمان کے کل اراکین کی تعداد چار سو چھیالیس ہے لیکن اس میں کتنے دوہری شہریت رکھنے والے ہیں، اس کا ریکارڈ الیکشن کمیشن کے پاس ہے اور نہ کسی اور ادارے کے پاس۔ رابطہ کرنے پر الیکشن کمیشن کے اہلکار نے یہ تسلیم کیا کہ انتالیس برس تک کسی نے اس معاملے کی چھان بین نہیں کی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق انہوں نے کاغذات نامزدگی میں ایک نکتہ شامل کیا ہے جس کے تحت آئندہ پارلیمان کی رکنیت کے ہر امیدوار پر لازم ہوگا کہ وہ بیان حلفی دائر کریں کہ وہ پاکستان کے علاوہ کسی اور ملک کی شہریت نہیں رکھتے۔

کمیشن کے ایک ترجمان نے بتایا کہ رواں سال مارچ میں سینیٹ کے جو انتخابات ہوئے، اس موقع پر تمام اراکین سے حلف نامہ لیا گیا ہے۔ جب ان سے پوچھا کہ موجودہ اراکین پارلیمان سے ایسا حلف نامہ کیوں نہیں لیا جا رہا تو انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں مدت پوری ہونے والی ہے، آئندہ انتخابات میں تمام امیدواروں سے حلف نامہ لیا جائے گا۔

پاکستان میں جمہوریت اور جمہوری اداروں کے استحکام کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ‘پلڈاٹ’ کے سربراہ احمد بلال محبوب نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ انہوں نے دوہری شہریت کے حامل اراکین پارلیمان کی معلومات اکٹھی کرنے کی کوشش کی لیکن کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔

انہوں نے بتایا کہ اکثر اراکین یہ معلومات چھپاتے ہیں کیونکہ انہیں نا اہلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور الیکشن کمیشن سمیت کسی کے پاس کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اچھی بات یہ ہوئی ہے کہ الیکشن کمیشن نے کاغذات نامزدگی میں جو بیان حلفی شامل کیا ہے اس سے آئندہ الیکشن کے بعد کافی معلومات سامنے آئیں گی۔

’سینٹر فار سوک ایجوکیشن‘ کے سربراہ ظفراللہ خان کہتے ہیں کہ اچھی بات ہے کہ دوہری شہریت رکھنے والوں کو پارلیمان میں آنے سے روکنے کا کام شروع ہوا ہے۔ ان کے بقول ماضی میں معین قریشی اور شوکت عزیز جیسے لوگ وزیراعظم بنتے رہے جو کہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔

لیکن بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فرح ناز اصفہانی کی سپریم کورٹ کی جانب سے قومی اسمبلی کی رکنیت معطل کیے جانے کے بعد وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اس معاملے پر جارحانہ رویہ اپنایا ہے اور جس سے عدلیہ اور حکومت میں کشیدگی کو ایک بار پھر ہوا مل سکتی ہے۔

وزیراعظم نے ایک نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ آئین کے تحت دوہری شہریت رکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ ان کے بقول وہ اس بات کے حق میں ہیں کہ پاکستان سے باہر رہنے والے پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ملے اور وہ اراکین پارلیمان بنیں۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے دونوں ایوانوں کے اراکین، میئرز اور کونسلرز کے عہدوں پر تین سو پاکستانی منتخب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بدل گئی ہے اور اس معاملے پر بحث ہونی چاہیے، پارلیمان قانون سازی کرے کہ دوہری شہریت والوں کو الیکشن لڑنے کا حق ہونا چاہیے۔

اسی بارے میں