گیاری سیکٹر: مزید دو لاشیں برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس سے پہلے سنیچر کو گیاری آپریشن کے پچاسویں روز فرفانی تودے سے پہلی لاش نکالی گئی تھی

پاکستان کی فوج کے مطابق گیاری سیکٹر میں جاری ریسکیو آپریشن کے دوران برفانی تودے تلے دبے تین سکیورٹی اہلکاروں کی لاشوں کو نکلا جا چکا ہے۔

پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن پی ٹی وی نے فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے حوالے سے بتایا ہے کہ دو فوجی اہلکاروں کی لاشوں کو گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران نکلا گیا ہے۔

فوج کے مطابق اب تک تین فوجی اہلکاروں کی لاشوں کو نکلا جا چکا ہے اور ریسکیو آپریشن میں پیش رفت جاری ہے اور آپریشن کو مزید تیز کر دیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ تینوں لاشیں چیک پوسٹ کے مقام سے ملیں ہیں۔

دونوں لاشوں کو وادی گوما میں پہنچا دیا گیا ہے۔

اس ریسکیو آپریشن کی نگرانی، وادیِ گوما میں قائم فوجی اڈے سے کی جا رہی ہے۔

فوج کے مطابق لاشوں کی شناخت کے لیے نیشنل ڈیٹا بیس اتھارٹی نادرا کی ٹیم کو سکردو بلایا گیا ہے۔

اس وقت ریسکیو آپریشن میں تین سو اہلکار حصہ لے رہے ہیں اور انہیں بھاری مشنری کی مدد بھی حاصل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption امدادی کارروائیوں میں مصروف فوجی اہلکاروں کو بھاری مشنری کی مدد بھی حاصل ہے

اس سے پہلے سنیچر کو گیاری میں جاری ریسکیو آپریشن کے پچاس روز بعد برف تلے دبی پہلی لاش ملی تھی۔

سیاچن کا گلیشیئر دنیا کا بلند ترین متنازعہ محاذ ہے جہاں پاکستان اور بھارت کی افواج سطح سمندر سے کوئی بیس ہزار فٹ کی بلندی پر مورچہ زن ہیں۔

پاکستان کی حدود میں، لگ بھگ تیرہ ہزار فٹ کی بلندی پرگیاری سیکٹر میں قائم سِکس این ایل آئی کا بٹالین ہیڈکوارٹر، چھ اور سات اپریل کی درمیانی شب گلیشیر سے آنے والے برفانی تودے کے نیچے دب گیا تھا۔

اِس آپریشن کے دوران پاکستانی فوج کو اپنے وسائل بروئے کار لانے اور موسمی شدت کے باعث مشکلات کا سامنا رہا۔

گیاری سیکٹر پر گرنے والا برفانی تودہ ایک مربع کلومیٹر وسیع تھا اور مختلف مقامات پر اِس کے ملبے کی گہرائی ستر فٹ سے دو سو فٹ تک تھی۔

آپریشن کے آغاز میں کھدائی کرنے والی مشینوں کو ٹکڑے کرکے چھوٹے ٹرکوں پر، قراقرم کے دشوار گزار پہاڑی سلسلوں سے بذریعۂ سڑک پہنچایا گیا۔ مشینی ٹکڑوں کو وادیِ گوما میں دوبارہ جوڑ کر گیاری سیکٹر روانہ کیا گیا اور ریسکیو کی سرگرمیوں میں تیزی لانے میں کئی دن لگ گئے۔

اِس دوران برفباری، تودے گرنے اور درجۂ حرارت تیزی سے گرنے جیسے عوامل نے ریسکیو آپریشن کی رفتار سست رکھی۔

اسی بارے میں