آئی ایس آئی چیف کا دورۂ امریکہ ملتوی

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption آئی ایس پی آر نے دورے کی التواء کی وجہ جنرل ظہیر کی مصروفیات کو قرار دیا ہے

پاکستانی فوج کے مطابق خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام نے امریکہ کا مجوزہ دورہ ملتوی کر دیا ہے۔

اس دورے کے التواء کا اعلان ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ اور پاکستان کے تعلقات شدید تناؤ کا شکار ہیں۔

تاہم پاکستانی فوج کے ترجمان کی جانب سے جاری ایک مختصر بیان میں میں کہا گیا ہے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ظہیر الاسلام نے پاکستان میں اپنی مصروفیات کی وجہ سے امریکہ کا دورہ ملتوی کر دیا ہے۔

ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ’امریکی دورہ ملتوی کرنے کا کوئی اور وجہ نہیں بلکہ ظہیرالاسلام کی ان دنوں ملک میں بہت زیادہ مصروفیات ہیں‘۔

واضح رہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات اس وقت خراب ہوئے تھے، جب گزشتہ سال نومبر میں افغانستان میں تعینات اتحادی فوج میں شامل امریکی ہیلی کاپٹروں نے پاکستانی فوجی چوکی پر حملہ کیا تھا جس میں چوبیس پاکستانی فوجی مارے گئے تھے۔

پاکستانی حکومت نے اس حملے پر سخت احتجاج کرتے ہوئے افغانستان میں موجود نیٹو افواج کے لیے پاکستان کے راستے خوراک اور دیگر سامان کی فراہمی پر پابندی لگا دی تھی۔

اس واقعے کو چھ ماہ گزر جانے کے باوجود بھی ابھی تک رسد کی فراہمی پر عائد پابندی برقرار ہے یہ سپلائی لائن کھولنے کے لیے پاکستان پر بھاری بین الاقوامی دباؤ ڈالا جا رہا ہے تاہم پاکستان کا کہنا ہے کہ رسد کی فراہمی پر عائد پابندی ہٹانے کا فیصلہ صرف ملک کی پارلیمنٹ کرے گی۔

تقریباً ایک ہفتے پہلے پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ نیٹو کی سپلائی پر لگی پابندی ہٹانے کے لیے امریکہ سے بات چیت ہو رہی ہے اور جلد ہی اس سلسلے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

پیر کو ایک ٹی وی انٹرویو میں امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کے راستے رسد کی منصفانہ قیمت چاہتا ہے لیکن وہ اس معاملے پر ’لٹنے‘ کے لیے تیار نہیں ہے۔

نامہ نگار حفیط چاچڑ کے مطابق اطلاعات ہیں کہ پاکستانی حکومت نیٹو سے فی گاڑی پانچ ہزار ڈالر ادائیگی کا مطالبہ کر رہی ہے اور امریکہ نے صرف ساڑھے تین سو ڈالر کی تجویز دی ہے۔ اس سے پہلے امریکہ فی گاڑی ڈھائی سو ڈالر ادا کرتا آیا ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی دوسری وجہ اسامہ بن لادن کو تلاش کرنے میں امریکہ کی مدد کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو سنائی جانے والی سزا بھی ہے۔

ڈاکٹر شکیل کو قبائلی علاقے کی ایک عدالت نے ملک سے غداری اور جاسوسی کے الزام میں تینتیس برس قید کی سزا سنائی ہے جس پر نہ صرف امریکہ کی جانب سے سخت نکتہ چینی کی گئی ہے بلکہ امریکی سینیٹ کی ایک سب کمیٹی نے اس سزا کے ہر سال کے بدلے پاکستان کو دی جانے والی امداد سے ایک ملین ڈالر یعنی کل تینتیس ملین ڈالر کٹوتی کی منظوری بھی دی ہے۔

اسی بارے میں