کوئٹہ میں فائرنگ، پولیس اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو فوری طور پر سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کردیاگیا۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پولیس وین پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کردیاگیا۔

کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کا کہنا ہے کہ سوموار کی سہ پہر کو کوئٹہ شہر سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر نیو سریاب تھانہ کے حدود میں ولی جیڈ کے مقام پر نامعلوم افراد نے ایک پولیس وین پراندھا دند فائرنگ کی جس کے باعث گاڑی میں موجود گیس سلنڈر پھٹنے سے ایک زور دار دھماکہ ہوا۔

فائرنگ اور دھماکے کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک جبکہ تین اہلکار زخمی ہوگئے۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو فوری طور پر سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کردیاگیا۔

دھماکے کے بعد پولیس اور فرنٹیئرکور کے اہلکار فوری طور پر جائے وقوعہ پرپہنچ گئے جبکہ فائرنگ کے بعد نامعلوم افراد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی سریاب روڈ پر ایک پولیس وین کے قریب ہونے والے ریمورٹ کنٹرول بم دھاکے میں تین افراد ہلاک ہوئےتھے۔ بعد میں یونائیٹڈ بلوچ آرمی نے اسکی ذمہ داری قبول کی تھی۔

دوسری جانب سریاب کے علاقے کلی فیروز آباد سے آج مزید تین لاپتہ افراد کی لاشیں ملی ہیں جنہیں فوری طور پر بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال پہنچا دیاگیا۔ جہاں ایک کی شناخت محران خان ولد محراب خان کیازئی کے نام سے ہوئی ہے جواس سال گیارہ اپریل کو لاپتہ ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ دو بھائیوں محمد خان اور محمد نبی کی شناخت ہوئی ہے۔

بلوچ نیشنل وائس کے ترجمان کے مطابق یہ تینوں وہی لوگ ہیں جو ایف سی کے ہاتھوں کوئٹہ سے اغواء ہوئے تھے اوران کی اغواء کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سپریم کورٹ میں پیش کی گئی تھی۔

دوسری جانب افغانستان سے ملحقہ بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں مردہ کاریز میں ایک گھر میں زوردار دھماکہ ہوا ہے جس میں دو افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ تاہم سرکاری سطع پر اسکی تصدیق نہیں ہوسکی۔ دھماکے کے بعد جب میڈیا کی ٹیم جائے وقوع پر پہنچی تونامعلوم مسلع افراد نے تشدد کرکے تین کیمرے بھی توڑ دیے جس کے باعث ابھی تک دھماکے کی اصل وجوہات معلوم نہیں ہوسکی ہیں۔

اسی بارے میں