گیاری میں دبے تمام افراد کی موت کا باضابطہ اعلان

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کی فوج نے سیاچن گلیشیئر کے گیاری سیکٹر میں جاری ریسکیو آپریشن کے باون دن بعد برفانی تودے تلے دبے سکیورٹی اہلکاروں سمیت تمام ایک سو انتالیس افراد کی موت کا باضابط اعلان کر دیا ہے۔

منگل کو پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامۂ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق کہا گیا کہ برف تلے دبے تمام اہلکاروں کی موت کا اعلان فخر اور دکھ کے ملے جلے جذبات کے ساتھ کیا جا رہا ہے اور اس ’فیصلے کا مقصد ورثا کی مشکلات کو کم کرنا ہے۔‘

’دعا کے بعد بابا کا فون ضرور آئے گا‘

’بابھی کے آنسو تھمتے ہی نہیں ہیں‘

چھ اور سات اپریل کی درمیانی شب کو گیاری سیکٹر میں ایک اسّی فٹ اونچا اور ایک کلومیٹر طویل برفانی تودہ پاکستانی فوج کی ناردرن لائٹ انفنٹری کے بٹالین ہیڈکوارٹر پر آ گرا تھا اور وہاں موجود ایک سو اٹھائیس فوجی اور گیارہ شہری اس تودے تلے دب گئے تھے۔

فوج کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ’اموات کا اعلان تمام مکاتب فکر کے علماء اور مشائخ سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔‘

’جس وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی اس میں کسی کے زندہ بچ جانے کے امکانات نہیں ہیں۔‘

تاہم بیان کے مطابق تمام افراد کی لاشوں کو نکالے جانے تک ریسکیو آپریشن جاری رہے گا اور علاقے میں موسم اور سخت جغرافیائی حالات کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں مشکلات کا سامنا ہے۔

بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے رواں ماہ کے آغاز پر گیاری کے اپنے تیسرے دورے کے دوران صحافیوں کو بتایا تھا کہ برف تلے دبے افراد کی موت کا باضابط اعلان کر دیا جائے تاہم آخری اہلکار کی تلاش تک امدادی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

خیال رہے کہ پیر تک برفانی تودے دبے تین سکیورٹی اہلکاروں کی لاشوں کو نکلا جا چکا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

لاشوں کی شناخت کے لیے نیشنل ڈیٹا بیس اتھارٹی، نادرا، کی ٹیم کو سکردو بلایا گیا ہے۔

اس ریسکیو آپریشن کی نگرانی، وادیِ گوما میں قائم فوجی اڈے سے کی جا رہی ہے۔

اس وقت ریسکیو آپریشن میں تین سو اہلکار حصہ لے رہے ہیں اور انہیں بھاری مشینری کی مدد بھی حاصل ہے۔

اِس آپریشن کے دوران پاکستانی فوج کو اپنے وسائل بروئے کار لانے اور موسمی شدت کے باعث مشکلات کا سامنا رہا۔

آپریشن کے آغاز میں کھدائی کرنے والی مشینوں کو کھول کی مختلف حصوں میں چھوٹے ٹرکوں پر لاد کر، قراقرم کے دشوار گزار پہاڑی سلسلوں سے بذریعۂ سڑک پہنچایا گیا۔ مشینی حصوں کو وادیِ گوما میں دوبارہ جوڑ کر گیاری سیکٹر روانہ کیا گیا اور ریسکیو کی سرگرمیوں میں تیزی لانے میں کئی دن لگ گئے۔

اِس دوران برفباری، تودے گرنے اور درجۂ حرارت تیزی سے گرنے جیسے عوامل نے ریسکیو آپریشن کی رفتار سست رکھی۔

اسی بارے میں