’جدید ٹیکنالوجی بھی کام نہیں آ سکی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ہمالیہ کے متنازع سیاچن گلیشیئر کے گیاری سیکٹر میں گمشدہ فوجیوں کی تلاش میں گزشتہ باون روز سے مصروف امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کی جدید ٹیکنالوجی بھی ان کے کام نہیں آ سکی ہے اور انہیں اپنے ہاتھوں سے ہی لاشوں کی تلاش جاری رکھی ہوئی ہے۔

بی بی سی سے گزشتہ دنوں گیاری سیکٹر میں سرگرم عمل الیکٹرانک سروے میں مصروف میجر عدیل حیدر نے بتایا کہ انہیں چین نے ریڈار دیے تھے، جو ایلکٹرو مگنیٹک سگنلز کے ذریعے زمینی سطح سے نیچے چیزوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔

’اس قسم کے گراؤنڈ پینیٹریٹنگ (زمین کے اندر پہنچ والے) ریڈار یکساں مادے سے سگنل بھیج سکتے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس علاقے میں برف بھی ہے، ریت بھی ہے اور بڑے پتھر بھی، اسی لیے ان ریڈارز کی مدد سے ہم زمین کی زیادہ گہرائی میں نہیں جا پا رہے ہیں۔‘

امریکہ اور دیگر ممالک کی امدادی ٹیمیں بھی پندرہ میٹر سے زیادہ زمین کے نیچے نہیں جا سکیں ہیں۔

میجر عدیل نے بتایا کہ انہوں نے اس علاقے میں 175 حصوں کی چانچ پڑتال کی ہے اور ہر حصے میں انہوں نے دو سو میٹر گہرائی تک جائزہ لیا ہے۔ ہر حصے کی سو میٹر چوڑائی تھی۔

’اس مشق کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ اس علاقے میں تینتالیس ایسے مقامات ہیں جہاں زمین کی سطح سے اوسطاً بیس میٹر کی گہرائی پر کوئی چیز موجود ہے۔ مگر یہ ریڈار انسان اور دھات میں فرق نہیں کر سکتا۔ اس کے باجوود ہمیں اپنے فوجیوں کی نشاندہی کرنے میں مدد ملے گی۔ کیونکہ اگر گاڑی بھی موجود ہوئی تو ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہمارا کوئی فوجی بھی آس پاس ہو گا۔‘

چین نے پاکستان فوج کو اس حادثے کے بعد ہونے والی امدادی کارروائیوں کے لیے ایسے آلات فراہم کیے ہیں جن سے تمام علاقے کا مکمل جائزہ لے جا سکتا ہے۔ ان تین خصوصی ریڈارز کی لاگت تقریباً تین لاکھ ڈالر ہے۔

میجر عدیل نے مزید بتایا کہ چینی آلات کے علاوہ ان کے پاس کئی قسم کے کیمرے ہیں، جس سے وہ جو حرکت کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔

’مگر یہ کیمرے محدود ہیں کیونکہ صرف بیس میٹر کی گہرائی تک ان کی رسائی ہے۔ جب ہم زمین کو کھود کر نیچے پہنچیں گے تو پھر اس ٹیم کا کام شروع ہو جائے گا جن کے پاس کیمرے ہیں اور کٹائی کے آلات ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ فوج یہ تربیت حاصل ہے اور ان کی ٹیموں نے سال دو ہزار پانچ کے زلزلے میں بھی کام کیا تھا اور ترکی بھی گئے تھے۔

’یہ بین الاقوامی میعار کی ٹیم ہے جس کے پاس بین الاقوامی معیار کے آلات ہیں۔ یہ کسی بھی آفت زدہ علاقے میں تعینات ہو سکتی ہے۔‘

میجر عدیل پرعزم تھے کہ وہ اپنے تمام فوجیوں کو بالآخر نکال لیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ادھر بڑے پتھروں کا راستے سے ہٹانے جیسے مشکل کام میں مصروف حوالدار ذوالقرنین نے بتایا کہ وہ حادثے کے اگلے روز ہی گیاری پہنچ گئے تھے اور ڈرلنگ اور بلاسٹنگ میں مصروف ہیں۔

’بہت مشکل کام ہے لیکن کوششیں جاری ہیں۔ سپاہی دن میں دس گھنٹے کی شفٹ کر رہے ہیں جس میں انہیں آرام کے لیے وقت بھی دیا جاتا ہے۔‘

گیاری میں ہی میجر افضل فاروقی سے ملاقات ہوئی جن کا تعلق اسی یونٹ سے ہے جو برف تلے دبے ہیں۔ وہ دب جانے والے ہر شخص کو جانتے ہیں لہذٰا شاید ان کا کرب باقی ساتھیوں سے کچھ زیادہ ہے۔ لیکن ان کی تکلیف میں مزید اضافہ ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کی درخواستیں ہیں۔

ایک فوجی کی والدہ نے ان سے کہا ہے کہ جب ان کا بیٹا انہیں ملے تو ’اس کے بازو اور ٹانگیں سیدھی کرنا، اسے نہلانا اور پھولوں کے ہار پہنانا۔ اسے دولہا بنا کر گھر روانہ کرنا۔‘

اسی بارے میں