بلوچستان کا سیاسی حل تلاش کیا جائے: آرمی چیف

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں بلوچستان کے بارے میں اعلیٰ سطح کے ایک اجلاس میں آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کا فوجی حل دیرپا نہیں ہوسکتا بلکہ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اس کا سیاسی حل تلاش کیا جائے۔

اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ نے بتایا کہ آرمی چیف نے اجلاس میں کہا کہ وہ ذاتی طور پر اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ افواج پاکستان یا فرنٹیئر کور مکمل طور پر اپنے قانونی دائرہ کار میں کام کریں۔

وزیر کے بقول آرمی چیف نے کہا کہ اگر کہیں کوئی غلطی ہوئی ہے یا کوئی مسئلہ ہوا ہے تو وہ آئندہ نہ ہو۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کے بارے میں ماضی میں اتنے اعلیٰ سطحی اجلاس کم ہی بلائے گئے اور اس بار لگتا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے بلوچستان میں آئے روز لاشیں ملنے اور جبری گمشدگیوں کے بارے میں سخت ہدایات اور سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے زیر اہتمام کل جماعتی کانفرنس میں حکومت پر صورتحال بہتر کرنے کے لیے جو دباؤ ڈالا گیا اس کے بعد اعلیٰ مرکزی، صوبائی اور فوجی قیادت کا یہ اجلاس بلایا گیا۔

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ اجلاس میں طے پایا ہے کہ بلوچستان میں گرفتاری، حراست اور ٹرائل کے حوالے سے قانون پر مکمل عمل کروایا جائے گا اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں جو بھی ملوث ہوگا اس شخص کو معاف نہیں کیا جائے گا بلکہ سخت کارروائی ہوگی۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ فرنٹیئر کور امن و امان کے علاوہ کوئی اور فرائص جیسا کہ سمگلنگ کی روک تھام وغیر کا کام نہیں کرے گی۔

ان کے بقول فرنٹیئر کور بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کے حکم کے تحت کام کرے گی اور شاہراہوں پر سفر محفوظ کرنے کے لیے جہاں وزیراعلیٰ انہیں تعینات کریں گے وہ وہاں فوری کام شروع کریں گے۔

قمر الزمان کائرہ نے بتایا اجلاس میں طے پایا ہے کہ آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے تمام سیاسی اور قومپرست جماعتوں سے حکومت مذاکرات شروع کرے گی۔

ان کے بقول اجلاس میں چھ رکنی کمیٹی بھی بنائی گئی ہے جس میں تین اراکین مرکز کے اور تین بلوچستان کے صوبائی نمائندے ہوں گے۔ یہ کمیٹی ہفتہ وار اجلاس منعقد کرے گی اور اس کی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔

اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ وزارت قانون جلد انسداد دہشتگردی کے قوانین اور قانونِ شہادت میں ترمیم کا مسودا تیار کرے گی۔ انسداد دہشت گردی کی عدالتوں اور عملے کی تعداد بڑھائی جائے گی۔

وزیر نے بتایا کہ بلوچستان کے لوگوں کو جو پانچ ہزار ملازمتین دی گئی تھیں وفاقی حکومت ان کے اخراجات تین سال کے بجائے پانچ سال تک ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ فوج میں بلوچستان کوٹہ کےمطابق رواں سال بھرتیاں مکمل کی جائیں گی اور تین ہزار لیویز فورس میں بھی بلوچوں کو بھرتی کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ سبی اور کوہلو میں فوجی چھاؤنیاں ختم کرکے وہاں جو تعلیمی ادارے قائم کیے گئے ہیں ان کے لیے حکومت اخراجات اٹھائے گی اور وظائف بھی دیئے جائیں گی۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے بتایا کہ اجلاس میں بلوچستان میں غیر ملکی مداخلت کے بارے میں بات ہوئی لیکن ان کے بقول اصل مسئلہ گھر کے اندرونی حالات ٹھیک کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بلوچستان میں دو نئے ڈیم مکمل کیے جائیں گے اور کچھی کینال کے لیے بھی رقم فراہم کی جائے گی اور رتو ڈیرو سے گوادر تک سڑک بھی مکمل کی جائے گی۔

ان کے بقول وزیراعظم نے بلوچستان میں ٹیوب ویل کے لیے سبسڈی کی رقم فوری جاری کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

قبل ازیں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان میں استحکام اور خوشحالی کے لیے تبدیلی چاہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت بلوچستان کو حقوق دینے کے لیے ساٹھ سے زائد آئینی، انتظامی، سیاسی اور اقتصادی اصلاحات پر عمل کرچکی ہے۔

ان کے مطابق حکومت نے فوج کو واپس بلانے اور فرنٹیئر کور کو وزیراعلیٰ کے ماتحت کرنے، نوجوانوں کو روزگار دینے اور این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کا حصہ بڑھانے جیسے اقدامات بھی اٹھائے گئے ہیں۔

اجلاس میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزراء چنگیز خان جمالی، میر اسرار اللہ زہری، سردار عمر گورگیج کے علاوہ فاروق نائک، احمد مختار، سید خورشید احمد شاہ، عبدالحفیظ شیخ، قمر الزمان کائرہ، میاں رضا ربانی اور مصطفیٰ نواز کھوکھر بھی اجلاس میں شریک ہوئے

بلوچستان کے گورنر نواب ذوالفقار مگسی، وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کے علاوہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی، آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمد ظہیر الاسلام، فرنٹیئر کور کے نائب سربراہ، انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ آفتاب سلطان اور آئی جی بلوچستان قرار حسین کے علاوہ سینئر فوجی اور سول اہلکار بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

اسی بارے میں