سندھ اسمبلی میں چوہدری نثار کی طلبی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سلیم خورشید کھوکھر کا موقف تھا کہ اپوزیشن لیڈر کو جمہوری اداروں کا احترام کرنا چاہیئے۔

سندھ اسمبلی کی استحقاق کمیٹی نے اپوزیشن رہنماء چوہدری نثار علی خان کے خلاف اخبارات میں اشتہارات شائع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

چوہدری نثار کے خلاف سندھی ٹوپی اور کلچر کی توہین، سندھ اسمبلی کے خلاف نازیبا الفاظ کے استعمال اور صوبائی اسمبلی کے ارکان کو باؤنسر قرار دینے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق صوبائی وزیر قانون ایاز سومرو کا کہنا ہے کہ چوہدری نثار مفرور ہیں، انہیں تین بار نوٹس جاری کیے گئے ہیں مگر اس کے باوجود وہ حاضر نہیں ہوئے۔

ایاز سومرو کے مطابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی تو سپریم کورٹ میں حاضر ہوتے ہیں مگر چوہدری نثار سندھ اسمبلی میں حاضر ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں کیونکہ وہ سندھ کے لوگوں کو اپنا غلام سمجھتے ہیں۔

چوہدری نثار کے خلاف تحریک استحقاق رکن اسمبلی عمران لغاری اور اقلیتی رکن سلیم خورشید کھوکھر نے پیش کی تھی۔ عمران لغاری کا کہنا تھا کہ چوہدری نثار خود کو اپوزیشن لیڈر سمجھتے ہیں اس لیے وہ سندھ اسمبلی میں پیش ہوکر وضاحت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

سلیم خورشید کھوکھر کا موقف تھا کہ اپوزیشن لیڈر کو جمہوری اداروں کا احترام کرنا چاہیئے۔

استحقاق کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ چوہدری نثار کی اسمبلی میں چودہ جون کو حاضری کے لیے سندھ، پنجاب اور اسلام آباد کے اخبارات میں اشتہارات شائع کرائے جائیں گے۔

کمیٹی کے رکن مجدد اسران کا کہنا تھا کہ اگر چوہدری نثار کمیٹی کے روبرو پیش نہیں ہوتے یا معذرت نہیں کرتے تو قوانین کے مطابق انہیں چھ ماہ سزا اور پانچ ہزار روپے جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔

اسی بارے میں