’سزا کالعدم تنظیم سےتعلق رکھنے پر دی گئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انتظامیہ کے مطابق الزامات ثابت ہونے کے بعد ایف سی آر کے تحت ڈاکٹر شکیل کو تینتیس سال قید کی سزا دی گئی ہے۔

پاکستان میں اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکہ کی مدد کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو سنائی جانے والے سزا کے فیصلے کے مطابق انہیں کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے کی بنیاد پر سزا دی گئی ہے۔

پولیٹکل انتظامیہ خیبر ایجنسی کی دفتر سے ملنے والی تین صفحوں پر مُشتمل فیصلے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی نے خیبرایجنسی میں کالعدم تنظیم لشکر اسلام امیر منگل باغ کو بیس لاکھ روپے دیے تھے۔

ایف سی آر میں دیے جانے والے فیصلے میں بتایاگیا ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی نے کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں کو طبی امداد فراہم کی تھی جس میں سید نور، ملک دین خیل اور حضرت خان سپاء کے ناموں کا ذکر کیاگیا ہے۔

اس سے پہلے پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی پر مُلک سے غداری کرنے کے جُرم میں تیس سال سزا اور تین لاکھ پچاس ہزار روپے جُرمانہ عائد کیا ہے۔ اہلکار کے مطابق جُرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں وہ مزید تین سال جیل میں گزاریں گے۔

پولیٹکل انتظامیہ کی طرف سے جاری ہونے والے فیصلے میں الزام لگایا ہے کہ خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملوں کی منصوبہ بندی ڈاکٹر شکیل آفریدی کے دفتر میں ہوتی تھی۔ جبکہ تحصیل باڑہ میں ساٹھ سے زیادہ تباہ ہونے والے سکولوں کی منصوبہ بندی بھی ان کے دفتر سے ہوئی تھی۔

فیصلے کی کاپی کے مطابق ڈاکٹر شکیل پر لگائے گئے الزامات جرگے اور پاکستان کے خُفیہ اداروں نے تحقیقات کے دوران ثابت کردیا ہے کہ وہ ان سرگرمیوں میں ملوث تھے۔

انتظامیہ کے مطابق الزامات ثابت ہونے کے بعد ایف سی آر کے تحت ڈاکٹر شکیل کو تینتیس سال قید کی سزا دی گئی ہے۔

دوسری طرف وزیر اعلٰی خیبر پختون خوا امیرحیدر خان ہوتی نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو جیل میں سخت سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ حکام کے مطابق خفیہ ادارے کی جانب سے وزیر اعلٰی خیبر پختون خوا امیر حیدر خان ہوتی کو رپورٹ ارسال کی گئی تھی۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو سینٹرل جیل کے اندر ایک الگ کمرے میں رکھا گیا ہے اور ان کی سکیورٹی پر بھی صرف دو اہلکار موجود ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سینٹرل جیل پشاور میں اڑھائی سو خطرناک قیدیوں سمیت تین ہزار قیدی موجود ہیں جن میں زیادہ تر ڈاکٹر شکیل آفریدی کے خلاف جذبات رکھتے ہیں اور اس بات کاشبہ ہے کہ وہ کسی بھی وقت ڈاکٹر شکیل آفریدی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

اسی بارے میں