کراچی ٹارگٹ کلنگ: چار افراد ہلاک، جج زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کراچی میں ٹارگٹ کلنگز کے مختلف واقعات میں چار افراد ہلاک اور ایک سول جج زخمی ہوگئے ہیں، سندھ بھر میں وکلا نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا ہے۔

نپیئر تھانے کی حدود میں ٹمبر مارکیٹ کے قریب سے دو لاشیں ملی ہیں، پولیس کا کہنا ہے کہ لاشوں کی جیبوں میں سے پرچی نکلی ہے، جس پر تحریر ہے کہ ’جو مہاجر صوبے کا غدار ہے، وہ موت کا حقدار ہے۔‘ دونوں افراد کی شناخت نہیں ہوسکی ہے تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں شکل و صورت سے پولیس اہلکار نظر آتے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ نارتھ ناظم آباد کے علاقے میں فخر عباس اور آغا رضا عباس اپنے کارخانے کی طرف جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ میں ہلاک ہوگئے، پولیس نے واقعے کو ٹارگٹ کلنگ قرار دیا ہے۔

اس سے پہلے فیڈرل بی ایریا میں نامعلوم مسلح افراد نے سول جج ظہیر نقوی کی کار پر فائرنگ کی ، جس میں وہ شدید زخمی ہوگئے ہیں، جنہیں عباسی شہید ہپستال منتقل کیا گیا ہے۔

سول جج پر حملے کے خلاف سندھ بھر میں وکلاء نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا ہے، جس کے باعث ہزاروں سائلوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

سندھ ہائی کورٹ کے چیف مشیر عالم نے سول جج پر حملے کا نوٹِس لیا ہے، انہوں نے سیشن جج صادق حسین بھٹی کو تفتیشی افسر مقرر کیا ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے ایک مرتبہ پھر اپنا موقف دہرایا کہ کراچی میں سوچی سمجھی سازش کے تحت یہ کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

لندن سے واپسی پر کراچی ایئرپورٹ پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کچھ عناصر چاہتے ہیں کہ حالات خراب ہوں تاکہ الیکشن جلد ہوجائیں مگر انتخابات اپنے وقت پر ہی ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ وکلا، ڈاکٹروں اور ایسے طبقے کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے جو ایکدم متحد ہوسکتے ہیں، اس لیے ان لوگوں پر ہاتھ ڈالا جارہا ہے اور یہ ایک سوچی سمجھی اسکیم کے تحت ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں