شکیل آفریدی سے کوئی تعلق نہیں، لشکر اسلام

شکیل آفریدی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اطلاعات ہیں کہ شکیل آفریدی کو سینٹرل جیل پشاور سے اٹک جیل منتقل کیا جا رہا ہے

خیبر ایجنسی میں سرگرم کالعدم تنظیم لشکر اسلام کے ترجمان نے کہا ہے کہ ان کا ڈاکٹر شکیل آفریدی سے کوئی تعلق نہیں لیکن عوامی شکایات پر انہوں نے شکیل آفریدی کو گرفتار کیا تھا اور انہیں دو لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کرکے رہا کر دیا گیا تھا۔

امریکہ کے لیے جاسوسی کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کا مسئلہ ان دنوں قومی اور بین الاقوامی سطح پر اہم موضوع بنا ہوا ہے۔ گزشتہ روز پولیٹکل انتظامیہ کے تفصیلی فیصلے کی کاپی جاری ہونے کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی ہے۔

جمعرات کے روز کالعدم تنظیم لشکر اسلام کے ایک ترجمان عبدالرشید لشکری نے خیبر ایجنسی میں مقامی صحافیوں کو بتایا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے ان کے ساتھ کوئی روابط نہیں تھے بلکہ انھوں نے عوامی شکایات پر ڈاکٹر شکیل آفریدی کو گرفتار کیا تھا اور پھر دو لاکھ روپے جرمانے کی رقم وصول کرنے کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔ مقامی لوگوں کے مطابق ڈاکٹر شکیل آفریدی کو اکا خیل علاقے میں قائم ان کے کلینک سے سن دو ہزار آٹھ میں اغوا کر لیا گیا تھا۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی کے وکیل سمیع اللہ آفریدی نے ان کے بھائی جمیل آفریدی کے توسط سے بتایا کہ شدت پسندوں نے پندرہ لاکھ روپے کا مطالبہ کیا تھا لیکن بات دس لاکھ روپے میں طے ہو گئی تھی جس کے لیے انہوں نے اہلیہ کے زیور بیچ کر رقم کا انتظام کیا تھا اور جرمانے کے طور پر ادا کیے تھے۔

سمیع اللہ آفریدی نے مزید بتایا کہ وہ اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ کے فیصلے کے خلاف کمشنر پشاور کی عدالت میں جمعہ کے روز اپیل دائر کریں گے ۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپیل میں یہ نقطہ اٹھائیں گے کہ ذرائع ابلاغ میں کچھ اور آرہا تھا اور سزا کسی اور جرم میں دے دی ہے۔ اس کے علاوہ ایک نقطہ یہ بھی ہے کہ اسسٹسنٹ پولیٹکل ایجنٹ سات سال سے زیادہ کی سزا نہیں دے سکتا جبکہ شکیل آفریدی کو تینتیس سال کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس بارے میں پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا حالیہ فیصلہ موجود ہے۔

سمیع اللہ آفریدی کے مطابق وہ اس سزا کو غیر قانونی قرار دیتے ہیں کیونکہ کوئی ایسے شواہد یا ثبوت پیش نہیں کیے گئے جس سے ثابت ہو کہ ڈاکٹر شکیل افریدی کے لشکر اسلام کے ساتھ روابط تھے۔ انہوں نے کہا کہ جس رقم کا فیصلے میں ذکر ہے وہ غلط ہے کیونکہ شکیل آفریدی کی رہائی کے لیے جرمانے کلے طور پر انہوں نے دس لاکھ روپے جمع کرائے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر شکیل کو اپنے دفاع کا کوئی موقع فراہم نہیں کیا گیا اور نہ ہی کوئی وکیل کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

شکیل آفریدی کے بارے میں یہ اطلاعات ہیں کہ انہیں سینٹرل جیل پشاور سے اٹک جیل منتقل کیا جا رہا ہے لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ سمیع اللہ آفریدی کے مطابق انہیں اور ان کے بھائی کو بھی پشاور جیل میں شکیل آفریدی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی اور اس کے لیے انہوں نے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات اور سنٹرل جیل کے حکام سے بارہا رابطے کی کوشش کی ہے لیکن کوئی ان سے ملاقات بھی نہیں کر رہا۔

اسی بارے میں