ایف سی صوبائی انتظامیہ کی معاون ہے افسر نہیں،سپریم کورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وزیر اعلٰی بلوچستان اسلم رئیسانی نے دعوٰی کیا کہ بلوچستان میں حالات اتنے خراب نہیں ہیں جتنے بتائے جا رہے ہیں۔

بلوچستان میں امن وامان اور ٹارگٹ کلنگ سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے فرنٹیئر کور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی خدمت کے بدلے قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا جاسکتا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ صوبائی انتظامیہ اور پولیس اپنی معاونت کے لیے طلب کی جانے والی فرنٹیئر کور کے سامنے بالکل بے بس ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران وزیر اعلی بلوچستان اسلم رئیسانی کے علاوہ سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری داخلہ بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس سے بڑھ کر لاقانونیت کیا ہوگی کہ جن تین افراد کو بازیاب کرنے کے بارے میں کہا گیا تو اُنہیں قتل کردیا گیا۔

بلوچستان پولیس کے سربراہ نے عدالت کو بتایا کہ اس واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ان افراد کے قتل سے متعلق الزام ایف سی پر آرہا ہے اس لیے مقدمہ آئی جی ایف سی کے خلاف ہونا چاہیے۔

عدالت نے وفاقی حکومت کی طرف سے بلوچستان کے معاملے پر پیش کی گئی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسا دیکھائی دیتا ہے کہ یہ رپورٹ حقائق کو معلوم کرنے کے لیے باہر جانے کی بجائے ڈرائینگ روم میں بیٹھ کر تیار کی گئی ہے۔‘

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے معاملے پر سب پاکستانیوں کو تشویش لاحق ہے اور ایسے افراد کی نشاندہی ہونی چاہیئے جو صوبے کے حالات خراب کرنے کے ذمہ دار ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ بلوچستان میں لوگوں کے اغوا اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہونے کا الزام سیکورٹی اداروں پر لگایا جا رہا ہے جو کہ انتہائی تشویش ناک امر ہے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل بلوچستان کے معاملے پر بُلائے گئے ایک اعلی سطحی اجلاس میں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا تھا کہ بلوچستان کے مسئلے کا فوجی حل دیرپا نہیں ہے بلکہ اس کے سیاسی حل کے لیے کوششیں کی جانی چاہیئے۔

بلوچستان میں امن وامان کے مقدمے کی سماعت کرنے والے بینچ میں شامل جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ ’ایف سی صوبے میں امن وامان قائم کرنے کے لیے صوبائی انتظامیہ کی معاون ہے افسر نہیں ہے۔‘

اُنہوں نے کہا کہ صوبے میں جس کی لاٹھی اُس کی بھینس والا قانون رائج ہے۔ آئی جی ایف سی میجر جنرل عبیداللہ خٹک کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔ خفیہ ایجنسیوں کے وکیل راجہ ارشاد نے عدالت کو بتایا کہ آئی جی ایف سی ایران کے دورے پر ہیں جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’لوگوں کو دن دیہاڑے قتل کیا جارہا ہے اور وہ غیر ملکی دورے کرر ہے ہیں۔‘ اُنہوں نے خفیہ ایجنسیوں کے وکیل سے کہا کہ میجر جنرل عبداللہ خٹک کو فوری واپس بُلایا جائے۔

چیف جسٹس نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس اہم مسئلے کی سماعت کے لیے اٹارنی جنرل یا کوئی سرکاری وکیل موجود نہیں ہے۔

عدالت نے وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری کو ہدایت کی کہ بلوچستان کا معاملہ وزیر اعظم اور صدر کے نوٹس میں لائیں اور اس مسئلے کے حل کے لیے سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری داخلہ کا اجلاس بُلائیں اور آئندہ سماعت کے موقع پر اس مسئلے کے حل کے لیے واضح موقف پیش کریں۔ عدالت نے اس مقدمے کی سماعت چار جون تک کے لیے ملتوی کردی۔

سماعت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلٰی بلوچستان اسلم رئیسانی نے کہا کہ ایف سی اُن کے ماتحت نہیں ہے۔ اُنہوں نے دعوٰی کیا کہ بلوچستان میں حالات اتنے خراب نہیں ہیں جتنے بتائے جا رہے ہیں۔ جب اسلم رئیسانی سے پوچھا گیا کہ اگر بلوچستان پرامن علاقہ ہے تو پھر وہ اپنا زیادہ تر وقت اسلام آباد میں کیوں گُزارتے ہیں تو وہ میڈیا پر برس پڑے اور کہا کہ میڈیا کو ایسے سوالات کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ وزیر اعلی بلوچستان کا کہنا تھا کہ اُن کی مرضی ہے۔

اسی بارے میں