ٹیکس سلیب تبدیل، چار لاکھ کی چُھوٹ سب کیلیے

تصویر کے کاپی رائٹ pa
Image caption انکم ٹیکس سلیب میں تبدیلی کا فائدہ تنخواہ دار طبقے کو پہنچے گا

مالی سال دو ہزار بارہ - تیرہ کے بجٹ میں جہاں حکومتِ پاکستان نے کم از کم قابلِ ٹیکس آمدن کو ساڑھے تین لاکھ سے بڑھا کر چار لاکھ کرنے کا اعلان کیا ہے وہیں انکم ٹیکس کا تعین کرنے کے لیے موجود سلیب کی تعداد اٹھارہ سے کم کر کے پانچ کر دی گئی ہے۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار ذیشان حیدر کے مطابق ماضی میں انکم ٹیکس کی چھوٹ صرف ایسے افراد کو حاصل تھی جن کی سالانہ آمدن اس حد سے کم ہو اور زیادہ آمدنی والے افراد کو اپنی کل آمدن پر ٹیکس دینا پڑتا تھا۔ تاہم دو ہزار بارہ تیرہ کے فنانس بل کے مطابق اب تمام ٹیکس دہندگان اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

سلیب میں کی جانے والی تبدیلیوں کے بعد پہلے سلیب میں ایسے افراد آئیں گے جن کی سالانہ آمدن چار لاکھ سے کم یعنی تینتیس ہزار روپے ماہانہ ہے۔ ان افراد کو کوئی انکم ٹیکس نہیں دینا پڑے گا۔

دوسرے سلیب میں اب ایسے افراد کو شامل کیا گیا ہے جن کی آمدن چار لاکھ سے ساڑھے سات لاکھ روپے سالانہ تک ہے انہیں چار لاکھ سے زائد رقم پر پانچ فیصد کی شرح سے ٹیکس دینا ہوگا۔

مثال کے طور پر ایک ایسا شخص جس کی ماہانہ آمدن پینتیس ہزار روپے یا سالانہ چار لاکھ بیس ہزار روپے ہے وہ اب تک ڈھائی فیصد کی شرح سے ٹیکس ادا کرتا تھا جو کہ سالانہ ساڑھے دس ہزار روپے کے لگ بھگ بنتا تھا۔ تاہم نئے قوانین کے تحت اس شخص کو چار لاکھ کی چھوٹ حاصل ہوگی اور بیس ہزار روپے پر یہ شخص دس فیصد کی شرح سے دو ہزار روپے سالانہ ٹیکس دے گا یعنی اسے تقریباً ساڑھے آٹھ ہزار روپے کی بچت ہوگی۔

تیسرا سلیب ساڑھے سات لاکھ سے پندرہ لاکھ آمدن والے افراد کے بارے میں ہے جنہیں اب ساڑھے سترہ ہزار روپے کے فکس ٹیکس کے علاوہ ساڑھے سات لاکھ سے زائد آمدن پر دس فیصد کی شرح سے ٹیکس دینا ہوگا۔

چوتھے سلیب میں پندرہ لاکھ سے پچیس لاکھ روپے سالانہ آمدنی والے افراد کو شامل کیا گیا ہے۔ نئے قوانین کے تحت یہ لوگ بانوے ہزار پانچ سو روپے سالانہ فکس ٹیکس دیں گے جبکہ پندرہ لاکھ سے زائد آمدن پر انہیں پندرہ فیصد کی شرح سے ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

انکم ٹیکس کا پانچواں اور آخری سلیب پچیس لاکھ روپے سالانہ سے زائد آمدن پر لاگو ہوتا ہے اور اس کے تحت دو لاکھ بیالیس ہزار پانچ سو روپے فکس ٹیکس کے علاوہ پچیس لاکھ سے زائد آمدن پر بیس فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

اسی بارے میں