’گیارہ سو پانچ ارب روپے خسارے کا بجٹ‘

budget pakistan تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نئے بجٹ میں ترقیاتی اخراجات کے لیے پانچ سو چونسٹھ ارب روپے رکھے گئے ہیں

پاکستان کی وفاقی حکومت نے یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال کے لیے انتیس سو ساٹھ ارب روپے کا بجٹ پیش کر دیا ہے۔

یہ گیارہ سو پانچ ارب روپے کے خسارے کا بجٹ ہے۔

انکم ٹیکس کے نئے سلیب، چار لاکھ کی چھوٹ سب کے لیے

نئے سال کے بجٹ میں دفاع کے لیے پانچ سو پینتالیس ارب روپے رکھے گئے ہیں، جبکہ ریٹائرڈ فوجیوں کی پینشن کے مد میں ایک سو انتیس ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ پہلے یہ رقم دفاعی بجٹ کا حصہ ہوتی تھی لیکن شوکت عزیز کے دور سے اُسے علیحدہ کیا گیا۔

بجٹ میں نو سو چھبیس ارب روپے قرضوں کے سود کی واپسی، دو سو چالیس ارب روپے سویلین حکومت کے اخراجات اور دو سو نو ارب روپے سبسڈی کے لیے رکھے گئے ہیں۔

پاکستان کے وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے یہ بجٹ پیش کیا۔ مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ تاخیر سے جب اجلاس شروع ہوا اور وزیر خزانہ بجٹ تقریر کے لیے اٹھے تو مسلم لیگ (ن) کے اراکین نعرہ بازی کرتے ہوئے اپنی نشستوں سے اٹھ کر سپیکر کے سامنے کتبے لہراتے نعرہ بازی کرتے پہنچ گئے۔ انہوں نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی نشست اور وزیر خزانہ کے قریب جب نعرہ بازی کی تو کئی حکومتی اراکین ان کے لیے ڈھال بن گئے۔

مسلم لیگ (ن) کے اراکین نے مہنگائی، لوڈ شیڈنگ اور کرپشن ختم کرنے کے نعرے لگائے۔ جب ایک موقع پر وزیراعظم کے خلاف نازیبا نعرے لگائے گئے تو سرکاری اراکین نے انہیں منع کیا۔ جس پر فریقین میں تلخی ہوگئی اور وہ آپس میں ہاتھا پائی پر اتر آئے۔ بعض اراکین نے ایک دوسرے کے گریبان پکڑے اور گتھم گتھا ہوگئے۔

پیپلز پارٹی کے رکن جاوید اقبال وڑائچ نے شکیل اعوان کو تھپڑ ماردیا اور دونوں جانب کے اراکین نے انہیں چھڑایا۔ ایک موقع پر جمشید دستی اور شاہد خاقان عباسی نے ایک دوسرے کو دھکے دیتے ہوئے دھمکیاں بھی دیں۔ اس دوران پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے اراکین میں کئی بار گرما گرمی ہوئی اور ایوان مچھلی منڈی نظر آ رہا تھا۔

حفیظ شیخ نے ہیڈ فون لگا کر اپنی تقریر جاری رکھی اور بتایا کہ سیلاب اور بارشوں کی وجہ سے شدید نقصانات کے بعد اب معیشت سنبھل رہی ہے۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں اصلاحات کا ذکر کیا اور بتایا کہ نئے بجٹ میں ترقیاتی اخراجات کے لیے پانچ سو چونسٹھ ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ توانائی کا بحران حل کرنے کے لیے ایک سو تراسی ارب روپے رکھے گئے ہیں اور ضرورت پڑنے پر اس میں اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ ان کے بقول موجودہ حکومت نے ساڑھے تین ہزار میگا واٹ اضافی بجلی سسٹم میں ڈالی ہے اور پانچ ہزار پن بجلی پیدا کرنے کے منصوبے شروع کر رکھے ہیں۔ بجٹ میں سولر ٹیوب ویل پر ڈیوٹی میں خاصی رعایت دی گئی ہے۔

عوام کے لیے ریلیف

حکومت کے بقول سب سے بڑا ریلیف کوئی نیا ٹیکس نہیں لگانا ہے۔ چائے کی سمگلنگ روکنے کے لیے کسٹم ڈیوٹی سولہ فیصد سے کم کرکے پانچ فیصد کی گئی ہے اور ادویات میں استعمال ہونے والے خام مال کی اٹھاسی اشیاء پر کسٹم ڈیوٹی دس فیصد سے کم کرکے پانچ فیصد کی گئی ہے۔

بجلی سے چلنے والی گاڑیوں، بچوں کی مشق کرنے والی کاپیوں، پینسل، پین، سیاہی، موبل آئل، سیمینٹ پر ڈیوٹی کم کی گئی ہے اور وہ سستی ہوں گی۔

روزانہ اے ٹی ایم سے پچیس ہزار سے زائد کیش نکالنے پر ٹیکس تھا لیکن اب یہ حد پچاس ہزار تک بڑھائی گئی ہے۔ تاجروں کو ٹرن اوور پر ٹیکس میں پچاس فیصد رعایت دی گئی ہے۔ بیرون ملک سفر پر جو ٹیکس تھا اب وہ پاکستان پہنچنے یا باہر جاتے ہوئے لگے گا۔

حکومت نے جنرل سیلز ٹیکس کو ایک ہی شرح یعنی سولہ فیصد سے نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انکم ٹیکس اور سرکاری ملازمین

بجٹ میں سرکاری ملازمین کو بیس فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ وزیر کے مطابق انکم ٹیکس سلیب سترہ سے کم کر کے پانچ کر دیے گئے ہیں جس سے ٹیکس دہندگان کو ریلیف ملے گا۔

انکم ٹیکس میں چھوٹ کی حد چار لاکھ کر دی گئی ہے جس سے تینتیس ہزار روپے ماہانہ کمانے والے ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گے اور پینتیس ہزار ماہانہ کمانے والے جو پہلے ساڑھے دس ہزار ٹیکس دیتے تھے اب صرف ایک ہزار ٹیکس روپے دیں گے۔

اپنے ادارے سے قرض لینے پر پہلے تیرہ فیصد ٹیکس تھا، اب پانچ لاکھ تک قرضے پر کوئی ٹیکس نہیں اور اس سے زائد قرضہ لینے پر دس فیصد ٹیکس ہوگا۔

وزیر کے مطابق پاکستان میں اٹھارہ کروڑ آبادی میں سے صرف تیس لاکھ لوگ انکم ٹیکس دیتے ہیں اور سیلز ٹیکس کے رجسٹرڈ صارف صرف ایک لاکھ ہیں اور ان میں سے پچاس فیصد ریٹرن نہیں بھرتے۔

بعض اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ مشکل ترین حالات میں ایک بہتر بجٹ پیش کیا گیا ہے جس میں بیرونی امداد اور قرضوں کے بجائے اپنے وسائل پر انحصار کیا گیا ہے۔اقتصادی امور کے صحافی اور تجزیہ کار شاہد الرحمٰن کا کہنا ہے کہ اچھی بات ہے کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے پاس جانے سے اجتناب کیا گیا ہے اور الیکشن کا سال ہونے کے باوجود غیر ضروری ریلیف اور اعلانات سے گریز کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں