اعلی سطحی اجلاس: بلوچستان میں راہداریاں منسوخ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وزیر اعظم نے وفاقی وزیر داخلہ اور بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کو ہدایت کی کہ وہ تواتر کے ساتھ ملتے رہیں

بلوچستان کے مسئلہ پر ہفتے کو وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ایک اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے تمام ادارے مستقبل میں کسی کو راہداری جاری نہیں کریں گے اور جن لوگوں کو راہداریاں حاصل ہیں ان کو فوری طور پر منسوخ کر دیا جائے۔

اجلاس میں وزارت داخلہ کو ہدایت جاری کی گئی کہ وہ اگلے تین دن میں قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کو یہ حکم نامہ جاری کریں کہ موجودہ راہدایوں کو منسوخ کر دیا جائے اور مستقبل میں کسی کو راہداری جاری نہ کی جائے۔

کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق بلوچستان میں غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کو راہدایاں حاصل تھیں جن کے تحت انہیں گاڑیوں کو صوبے بھر میں استعمال کرنے کا حق حاصل تھا۔

اس اجلاس میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے نئے قانون متعارف کرانے اور دہشتگردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے انسدادِ دہشتگردی کے موجودہ قوانین میں ترمیم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں بلوچستان کے وزیر اعلی نواب اکبر رئیسانی کے علاوہ قانون، داخلہ، خزانہ، اطلاعات، خوراک اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزراء اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمان اور اعلی وفاقی اور صوبائی اہلکاروں نے بھی شرکت کی۔

اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزیراعظم اتوار سے بلوچستان کا دو روزہ دورہ کریں گے جس دوران وہ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔

اس اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ بلوچستان میں کالے شیشے والی گاڑیوں پر مکمل پابندی ہوگی اور کسی شخص کو کالے شیشے والی گاڑی چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ بغیر کسٹم ادا کیے کسی گاڑی کو سڑک پر آنے کی اجازت نہیں ہوگی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی گئی ایسی گاڑیوں کو قبضے میں لے کر ان کے مالکان کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جائے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایسی تمام گاڑیاں جن کے کسٹم ادا نہیں کیے گئے اور انھیں عارضی طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی ان کے اجازت نامے منسوخ تصور کیے جائیں گے۔

وزیر اعظم کے میڈیا آفس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا ہے کہ اس اجلاس میں وزیر اعظم نے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سے کہا کہ صوبے میں شدت پسندی کی لعنت اور لاپتہ افراد کے مسائل کے علاوہ دیگر مجرمانہ سرگرمیوں پر قابو پانے کے لیے وفاقی اور صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مربوط کوششوں کو یقنی بنایا جائے۔

بیان کے مظابق وزیر اعظم نے وزارت داخلہ کو یہ بھی ہدایت کی جرائم پر قابو پانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار اور صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے ان کی ضروریات کو دیکھا جائے۔

وزیر اعظم نے وفاقی وزیر داخلہ اور بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کو ہدایت کی کہ وہ تواتر کے ساتھ ملتے رہیں تاکہ صوبے میں اور خاص طور پر کوئٹہ میں امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنانے میں مدد مل سکے۔

اسی بارے میں