بجٹ اور چغد!

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

جو بیورو کریٹ ہر سال بجٹ دستاویز تیار کرتے ہیں وہ کوئی معمولی لوگ نہیں۔ وہ فنکار، مصور، مداری اور الیوژنسٹ ہیں۔ وہی ’اک رنگ کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں‘ کے اصل مفہوم شناس ہیں۔ وہ اصطلاحاتی طبلے اور خوابوں کے ستار کی ایسی شماریاتی جگل بندی کرتے ہیں کہ روشن آرا بیگم اور بڑے غلام علی خاں بھی ہوتے تو کانوں کو ہاتھ لگا کر زرا پرے پرے بیٹھ جاتے۔

جس پارلیمنٹ پر سالانہ سوا تین ارب روپے کے لگ بھگ خرچہ ہوتا ہے اور جو سالانہ بجٹ کی منظوری دیتی ہے، بخدا اس کے آدھے ارکان بھی بجٹ دستاویز تو کجا اس کا خلاصہ بھی پوری طرح نہیں پڑھ پاتے۔ پڑھ نہیں سکتے یا پڑھنا نہیں چاہتے۔ پھر بھی وہ نہایت وفاداری سے بجٹ کی مخالفت اور موافقت کرتے اور ایک ایک شق کی منظوری دیتے چلے جاتے ہیں۔

ہر سال جن اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں کے نام پر بجٹ بنتا ہے ان میں سے بہت سے بہت پانچ فیصد ہی انگریزی پڑھ یا سمجھ پاتے ہیں۔ان پانچ فیصد میں سے بھی شاید اعشاریہ صفر صفر ایک فیصد لوگ معیشت کی اصطلاحات کی شدبد رکھتے ہوں۔گویا ننانوے اعشاریہ ننانوے فیصد عوام نہیں سمجھ پاتے کہ کنزیومر پرائس انڈیکس کیا بلا ہے۔ فسکل سپیس کس چڑیا کا نام ہے۔ انڈر انوائسنگ کونسے جانور کا انڈا ہے۔ بجٹ ڈیفیسٹ کس محلے میں رہتا ہے۔ سبسڈی نامی درخت کہاں پایا جاتا ہے۔ نان ڈویلپمنٹ ایکسپینڈیچر کے کتنے پاؤں ہوتے ہیں۔ ریونیو رسیپٹس کی کھال کتنی موٹی ہے۔ مسی لینئس رسیپٹس کتنے گرام کی ہوتی ہیں۔ ڈیفنس ایلوکیشن کے کتنے دانت ہیں۔گرانٹس اینڈ ٹرانسفرز کس رنگ میں آتے ہیں اور فزیکل اسٹس کس پہاڑ پر رہتے ہیں۔

مگر کروڑوں لوگ جو جانتے ہیں وہ شاید بجٹ ساز نہیں جاننا چاہتے۔ جیسے یہی کہ ستر فیصد پاکستانی کنبے جن کی ماہانہ اوسط آمدنی پانچ سے دس ہزار روپے کے درمیان ہے وہ لوٹ مار پر اترے بغیر، جھوٹ بولے بغیر، ملاوٹ کیے بغیر، اپنے بال نوچے بغیر، نفیساتی مریض بنے بغیر ایسی کیا ترکیب لڑاویں کہ گھر کے پانچ افراد کو دو وقت دال روٹی مل سکے؟ کسی طرح سال میں فی کس ایک نیا جوڑا اور نیا جوتا یا چپل میسر آ جائے، کسی خیراتی شفاخانے میں آسانی سے جا پائیں اور وہ سکول بھی تلاش کرلیں جہاں کتابیں، یونیفارم، رہائش ، کھانا اور ساتھ میں زرا سی تعلیم بھی مفت دستیاب ہو۔ فاصلے بس اتنے سکڑ جائیں کہ بس کا کرایہ بچ جائے۔ مکان کا کرایہ کوئی ماہانہ ابابیل پھینک جایا کرے۔ بجلی کے بجائے صرف ایمان کی روشنی سے اندھیرا ٹل جائے۔ جلائیں تو کیا جلائیں۔ گیس کہ لکڑی کہ خود جل جائیں! کیونکہ خرچہ تو تینوں صورتوں میں ہے۔ بچوں کی شادی بیاہ سے کیسے بچیں۔ تھانے کچہری کے نذرانے، کلرکانہ و غیر کلرکانہ بھتے کہاں سے پورے کریں اور پھر موت سے بچنے کے لیے ایسا کیا کریں کہ اپنی قبر اور کفن کے اخراجات زندہ وارثوں کو جیتے جی نا گاڑ ڈالیں۔

یہی تو وہ کروڑوں زندہ لاشیں ہیں جن کے نام پر کھربوں کے قرضے لے کر سوا نو سو ارب سالانہ سود دیا جاتا ہے اور پھر ان زندہ لاشوں کو حقیقی و خیالی دشمن سے بچانے کے لیے پانچ سات کھرب سالانہ الگ سے خرچ کرنے پڑ جاتے ہیں۔

لیکن جو لوگ اس بجٹی دھندے میں نسل در نسل ہیں وہ بے وقوف تھوڑی ہیں۔ کیا وہ نہیں سمجھتے کہ بندر زندہ رہے گا تب ہی مداری کھا کمائے گا۔ طوائف کوٹھے پر بیٹھی رہے گی تو ہی دلال اور نائکہ بھی فاقے سے بچیں رہیں گے۔ غربت غائب ہوگئی تو استحصال کا چولہا کیسے جلے گا؟ امراض سلجھ گئے تو حکیم کی ہٹی کا کیا ہوگا، گورکن کی دوکان کیسے چلے گی؟

جو بجٹ بنانے، منظور کرنے اور کرانے والوں کو چغد سمجھے وہ سب سے بڑا چغد ۔۔۔۔

اب سامنے سے ہٹتا ہے کہ دوں منہ پر رکھ کے ایک فسکل سپیس اور دو ڈیفیسٹ اور ماروں تشریف پر کنزیومر انڈیکس کا ٹھڈا!

اسی بارے میں