بھوجا حادثہ: امریکی ماہرین کی ٹیم واپس روانہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سول ایوی ایشن اتھارٹی نے حادثے کے بعد بھوجا ائیر کے فلائٹ آپریشن پر عارضی پابندی عائد کی تھی۔

امریکہ میں آمد و رفت کے نظام میں حفاظتی اقدامات کا نگراں ادارہ نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ ’این ٹی ایس بی‘ اور جہاز بنانے والی نجی کمپنی بوئنگ کی ماہرین پر مبنی پانچ رکنی مشترکہ ٹیم بھوجا حادثے کی تحقیقات میں مدد کے بعد پاکستان سے روانہ ہو گئی ہے۔

اس ٹیم کے دورے کا مقصد اپریل کو ہونے والے بھوجا ایئر لائن کے فضائی حادثے میں سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کو ان کی تحقیقات میں مدد کرنا تھا۔

حادثے کے روز پاکستان کی سی اے اے نے امریکی ادارے این ٹی ایس بی سے تحقیقات کرنے میں مدد مانگی تھی۔ این ٹی ایس بی کی ٹیم نے سی اے اے کی ملبہ اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر کو اکھٹا کرنے اور اس کا جائزہ لینے میں مدد کی۔

انہوں نے سی اے اے کے ارکان کو جہاز کے فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر اور پائلٹ اور زمینی عملے کے بیچ ہونے والی بات چیت کے مزید جائزے کے لیے امریکا آنے کی دعوت بھی دی۔

امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس سانحے کے بعد این ٹی ایس بی اور بوئنگ کی جانب سے مہیا کیے گئے تعاون پر فخر محسوس کرتی ہے اور امید کرتے ہیں کہ یہ تعاون جاری رہے گا۔

اس سے پہلے پاکستان کی نجی فضائی کمپنی بھوجا ائیر کا کہنا تھا کہ وہ سول ایوی ایشن کی جانب سے عائد کی گئی عارضی پابندی کو ختم کرانے کے لیے اگلے ماہ شرائط مکمل کر لے گی جس کے بعد اس کا فلائٹ آپریشن بھی شروع کردیا جائے گا۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی نے حادثے کے بعد بھوجا ائیر کے فلائٹ آپریشن پر عارضی پابندی عائد کی تھی۔

دوسری جانب پاکستانی وزارت دفاع کی ہدایات کی روشنی میں سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ملک میں نجی کمپنی کے طیاروں کے تکنیکی معائنے کا عمل شروع کر دیا تھا۔

بیس اپریل کو اسلام آباد کے نواح میں بھوجا ائیر لائن کا ایک مسافر طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس حادثے میں ایک سو ستائیس افراد ہلاک ہوئے۔ بی ایچ او - 213 بوئنگ 737 طیارہ کراچی سے اسلام آباد آ رہا تھا اس میں ایک سو اکیس مسافر اور عملے کے چھ ارکان سوار تھے۔

اسی بارے میں