’زندگی کو لاحق مبینہ خطرات پر تشویش‘

فائل فوٹو، عاصمہ جہانگیر تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ کسی ایک شحص کے خلاف سازش نہیں، بلکہ یہ پاکستان کے مستقبل اور جمہوری ریاست کے خلاف سازش ہے: بیان

پاکستان کی سول سوسائٹی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی چوالیس نمایاں شخصیات نے انسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر کی زندگی کو لاحق سنگین خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انسانی حقوق کے کمیشن کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ریٹائرڈ ججوں، جرنیلوں، صحافیوں، دانشوروں، وکلاء برادری کے منتخب رہنماؤں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی پاکستان کی سرکردہ شحصیات نے خبردار کیا ہے کہ عاصمہ جہانگیر کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کی صورت میں خطرناک نتائج کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

’اصل درخواست گزار خفیہ ادارے کے سربراہ‘

بیان میں بتایا گیا ہے کہ عاصمہ جہانگیر کی زندگی کو لاحق سنگین خطرات کی معلومات ایک ذمہ دار اور قابل بھروسہ ذریعے سے انہیں موصول ہوئیں ہیں۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق عاصمہ جہانگیر کی زندگی کو کس سے خطرہ ہے، اس بارے میں براہ راست تو کسی پر ذمہ داری عائد نہیں کی گئی لیکن یہ کہا گیا ہے کہ انہیں دھمکیاں ایسے وقت مل رہی ہیں جب پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ کا ماحول ہے، مخالفت کرنے والوں کی لاشیں مل رہی ہیں اور اس کا الزام ریاست کے حد سے زیادہ استحقاق رکھنے والے اداروں پر لگ رہا ہے۔

پاکستان کی مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے خبردار کیا ہے کہ’ہم یہ سب پر واضح کرنا چاہتے ہیں اور بالخصوص سکیورٹی کے اداروں کے سربراہان پر کہ وہ عاصمہ جہانگیر کو پہنچنے والے نقصان کے نتائج کو معمولی نہ سمجھیں۔‘

بیان میں سختی سے کہا گیا ہے کہ یہ کسی ایک شحص کے خلاف سازش نہیں، بلکہ یہ پاکستان کے مستقبل اور جمہوری ریاست کے خلاف سازش ہے اور عاصمہ کو ملنے والی دھمکی اس کا ایک اہم جز ہو۔

بیان کے مطابق اس معاملے میں ریاست اور اس چیلینج سے سول سوسائٹی نے کس طرح نمٹنا ہے، اس کے سمجھانے کی کوئی ضرورت نہیں۔

اس بیان پر جسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم، ڈاکٹر مبشر حسن، آئی اے رحمٰن، پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سربراہان، منیر اے ملک، جسٹس (ر) طارق محمود، لیفٹینٹ جنرل (ر) طلعت مسعود، سلیمہ ہاشمی، ڈاکٹر مہدی حسن اور دیگر کے نام درج ہیں۔

اسی بارے میں