’نہ رات کو نیند آتی ہے، نہ دن کو‘

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں نے نہ صرف القاعدہ کو پریشان کر رکھا ہے بلکہ مقامی طالبان پر زمین تنگ کر دی ہے۔

شمالی اور جنوبی وزیرستان میں سنہ دو ہزار پانچ سے امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

پاکستان میں پہلا ڈرون حملہ اٹھارہ جون سنہ دو ہزار چار کو کمانڈر نیک محمد پر کیاگیا۔ ان کی ہلاکت کے بعد تقریباً چار سال تک بہت کم ایسا ہوا کہ کوئی مقامی کمانڈر امریکی جاسوس طیارے کے حملے کا نشانہ بنا ہو۔

سنہ دو ہزار نو میں تحریکِ طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود پر امریکی جاسوس طیارے کے حملے کے بعد سے ایک بڑی تعداد میں مقامی شدت پسند طالبان کمانڈر امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں میں مارے گئے جن میں حاجی عمر اور قاری حسین شامل ہیں۔

حاجی عمر کمانڈر نیک محمد کے جانشین تھے جبکہ قاری حسین خود کش حملہ آور تیار کرنے کے ماہر تھے۔ اب قاری حسین کی جگہ ولی محمد المعروف طوفان کو خودکش حملہ آور تیار کرنے کا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔

ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ مقامی طالبان کی تعداد غیر ملکیوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے اور وہ کھلے عام گاڑیوں اور بازاروں میں پھرتے نظر آتے ہیں لیکن غیر ملکیوں پر ڈرون حملے زیادہ ہوتے تھے۔

اب گزشتہ ایک عرصے سے مقامی طالبان بھی سخت نشانے پر ہیں اور چند مہینوں میں ملا نذیر اور حافظ گل بہادر گروپ کے پندرہ سے زیادہ اہم افراد ڈرون حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔

مقامی طالبان پر حملوں میں تیزی کے بعد مقامی طالبان کا رابطوں کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے جبکہ وہ ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں بھی شریک نہیں ہو رہے ہیں۔

مقامی افراد نے آج کل امریکی ڈرون طیارے کوایک نیا نام دیا ہے ’دہ طالبانوں پلار‘ یعنی طالبان کا باپ۔ مقامی افراد کہتے ہیں کہ یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ طالبان سوائے امریکی ڈرون حملوں کے علاوہ کسی اور سے نہیں ڈرتے۔

مبصرین کے خیال میں شمالی اور جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے بعض قبائلی عمائدین نے طالبان کے کہنے پر ڈرون حملوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے لیکن امریکہ نے ڈرون حملے بند کرنے سے صاف انکار کر دیا۔

علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جب سے امریکہ نے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے تب سے طالبان شدت پسند بھی منتشر ہوگئے ہیں اور وہ مکان یا کمرے میں آرام کرنے کی بجائے کھلے آسمان تلے اور ایک دوسرے سے دور سونے کو ترجیح دیتے ہیں۔

مقامی افراد بتاتے ہیں کہ جب کسی شدت پسند طالب سے ملاقات ہوتی ہے تو ان کی پہلی فریاد یہ ہوتی ہے کہ ڈرون بہت بڑا غذاب ہے، نہ رات کو نیند آتی ہے اور نہ دن کو، بس اللہ کے بھروسے پر گزارہ کرتے ہیں۔

مقامی افاراد کے مطابق پہلے کی نسبت آج کل طالبان نے گاڑیوں میں ایک ساتھ آنے جانے کو بہت کم کر دیا ہے اور پہلے جو ایک ساتھ کسی جگہ کھانے پینے کے انتظامات کیا کرتے تھے آج کل نظر نہیں آتے۔

علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلے وہ صرف القاعدہ کے کسی جنگجووں کی موجودگی کو خطرہ سمجھتے تھے مگر آج کل ان کے گھر میں کسی مقامی طالب کے آنے پر بھی القاعدہ جیسے جنگجووں کا خطرہ محسوس ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ ڈرون حملوں کا مرکز وزیرستان ہی ہے لیکن ان میں زیادہ تر حملے شمالی وزیرستان میں ہوتے ہیں کیونکہ جنوبی وزیرستان میں حکیم اللہ گروپ کے خلاف فوجی آپریشن کے بعد اکثر علاقے طالبان سے خالی ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں