ڈاکٹر شکیل کے معاملے پر پاکستانی وضاحت کا انتظار ہے، امریکہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے اسامہ بن لادن کا سراغ لگانے میں مدد کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے بارے میں اب تک کوئی معلومات فراہم نہیں کی ہیں اور ان کے خلاف الزامات کے معاملے میں پاکستان جس ناقابل فہم انداز میں پیچھے ہٹا ہے اور اپنا مؤقف بدلا ہے، اس پر امریکہ، پاکستان سے صاف صاف وضاحت کا منتظر ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے اب سے چند گھنٹے پہلے واشنگٹن میں اخباری بریفنگ کے دوران یہ بات کہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر آفریدی کے بارے میں امریکہ کا مؤقف بہت واضح ہے کہ پاکستان میں انہیں قید کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے چہ جائیکہ ان پر مقدمہ چلایا جاتا۔

انہوں نے کہا ’ ڈاکٹر آفریدی کے معاملے میں جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ ہمارا مؤقف بہت واضح ہے کہ ہم نہیں سمجھتے کہ انہیں قید میں رکھنے کی کوئی وجہ یا بنیاد موجود ہے۔ چہ جائیکہ کہ انہیں کسی غلط کاری پر مجرم قرار دیدیا جائے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر ڈاکٹر آفریدی کو مجرم قرار دینے کی کوئی بنیاد یا وجہ نہیں ہے لیکن کیا امریکہ کو اب تک یہ پتہ بھی چل پایا ہے کہ ڈاکٹر آفریدی کو سزا کس بنیاد پر دی گئی ہے تو ان کا جواب تھا۔

’ہمیں اب تک انتظار ہے۔ ڈاکٹر آفریدی کے بارے میں پاکستان ناقابل فہم انداز میں اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹا ہے۔ جیسا کہ خبروں میں بھی آیا ہے کہ اب پاکستان کے بقول انہیں طالبان سے تعلق رکھنے کی وجہ سے سزا دی گئی ہے۔ لیکن میری معلومات کے مطابق ہمیں ابھی حکومت پاکستان سے اس بارے میں صاف صاف وضاحت آنی ہے کہ اس معاملے میں اسکا مؤقف کیوں بدلا ہے۔‘

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں پر پاکستانی ردعمل کے بارے میں سوال پر امریکی ترجمان نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں خاص طور پر کلاسیفائیڈ آپریشنز کے بارے میں بات نہیں کرسکتا۔ لیکن اگر اس نکتے پر زیادہ وسیع پیرائے میں بات کروں تو جیسا کہ ہم پہلے بھی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ القاعدہ کے خلاف کارروائی اور پاکستان کو خطے میں مستحکم ملک کے طور پر ابھرتا دیکھنے میں ہمارے اور پاکستان کے ساتھ مفادات یکساں ہیں۔ خود پاکستان کو ان شدت پسند گروہوں سے سخت خطرہ ہے اسی لیے ہم پاکستان کے ساتھ دہشتگردی کے خاتمے میں تعاون کے لیے پرعزم ہیں۔‘

پاکستان کے راستے نیٹو کے سامان رسد کی بحالی کے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس پر پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر بات چیت جاری ہے اور اسی اختتام ہفتہ پر نائب وزیر خارجہ تھامس نائیڈز نے اس معاملے پر پاکستانی وزیر خزانہ سے بھی بات کی ہے اور یہی کہا ہے کہ یہ سب کے مفاد میں ہے کہ مواصلات کے یہ راستے کھلیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ نیٹو کی سپلائی لائن پر محتاط پیش رفت ہوئی ہے اور امریکہ اس معاملے پر ہر سطح پر بات چیت کا عمل جاری رکھے گا۔

اسی بارے میں