رحمان ملک مشیر برائے امورِ داخلہ مقرر

پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے دوہری شہریت کے مقدمے میں وزیرِ داخلہ رحمان ملک کی سینیٹ کی رکنیت معطل کیے جانے کے بعد حکومت نے انہیں امورِ داخلہ کے بارے میں وزیراعظم کا مشیر مقرر کر دیا ہے۔

رحمان ملک رکنیت کی معطلی کے بعد کابینہ کے رکن نہیں رہ سکتے تھے۔

’اکثر ارکان دوہری شہریت خفیہ رکھتے ہیں‘

دوہری شہریت:’انتخابات لڑنے پر پابندی غلط‘

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ان کی بطور مشیرِ داخلہ تقرری کا نوٹیفیکشن منگل کو کابینہ ڈویژن نے جاری کیا جس کے مطابق رحمان ملک کا عہدہ وفاقی وزیر کے برابر تصور ہوگا۔

سینیٹ کا رکن بننے سے پہلے بھی رحمان ملک داخلہ امور سے متعلق وزیر اعظم کے مشیر رہ چکے ہیں۔

سپریم کورٹ نے پیر کو ان کی رکنیت معطل کرتے ہوئے کہا تھا کہ رحمان ملک جب سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے تو اُن کے پاس دوہری شہریت تھی اور معاملے کے حتمی فیصلے تک رحمان ملک کی رکنیت معطل رہے گی۔

اس سے پہلے عدالت حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی رکن قومی اسمبلی فرح ناز اصفہانی کی امریکی شہریت رکھنے پر قومی اسمبلی کی رکنیت معطل کرچکی ہے۔

عدالت نے دوہری شہریت سے متعلق مزید تیرہ ارکان پارلیمنٹ کو نوٹس جاری کر دیے ہیں ان میں حکمراں جماعت اور حزب اختلاف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ شامل ہیں۔

ان ارکان میں وفاقی وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، ایوان بالا یعنی سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین صابر بلوچ اور حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے خواجہ آصف بھی شامل ہیں۔

رحمان ملک کی طرف سے متعدد بیانات آتے رہے ہیں کہ اُنہوں نے برطانوی شہریت چھوڑ دی ہے تاہم اس مقدمے کی سماعت کے دوران وہ کوئی ٹھوس شواہد عدالت میں پیش نہیں کر سکے۔ عدالت نے وزیر داخلہ کی طرف سے برطانوی شہریت چھوڑنے سے متعلق پیش کی جانے والی دستاویزات کو بےمعنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اُن کے وکیل کو خبردار کیا ہے کہ وہ عدالت کا وقت ضائع کر رہے ہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ کے وکیل ابھی تک شہریت چھوڑنے کا مستند سرٹیفکیٹ عدالت میں پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں تاہم وزیر داخلہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے اس ضمن میں دستاویزات کے حوالے سے برطانوی ہائی کمیشن کو خط بھی لکھا ہے۔

پیر کو سماعت کے دوران اٹارنی جنرل عرفان قادر نے عدالت کو بتایا کہ کسی بھی رکن پارلیمنٹ کی دوہری شہریت سے متعلق کارروائی کرنے کا اختیار سپیکر یا سینیٹ کے چیئرمین کو ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ عدالت نے فرح ناز اصفہانی کی رکنیت معطل کر کے پہلے ہی اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔

وحید انجم ایڈووکیٹ نے عدالت میں تیرہ ارکان پارلیمنٹ کی فہرست پیش کی جو دوہری شہریت رکھتے تھے ان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چھ، حکمراں اتحاد میں شامل متحدہ قومی موومنٹ کے دو جبکہ پانچ کا تعلق حزب اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون سے ہے۔

اسی بارے میں