القاعدہ رہنما ابو یحیٰی اللبّی ڈرون حملے میں ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ایک امریکی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پیر کو ہونے والے امریکی ڈرون حملے میں القاعدہ کے سینئر رہنما ابو یحیی اللبّی مارے گئے ہیں۔

امریکی اہلکار کے مطابق ڈرون حملے کا ہدف بھی اللبّی ہی تھے جس میں مجموعی طور پر پندرہ مشتبہ شدت پسند ہلاک ہوئے تھے۔

پاکستانی ذرائع نے البتہ اب تک اللبّی کی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق مغربی ملکوں کے خلاف القاعدہ کی منصوبہ بندی میں اللبّی کا کلیدی کردار تھا۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اللبّی کی ہلاک القاعدہ کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق ایک سال کے دوران یہ دوسری مرتبہ ہے کہ امریکہ نے القاعدہ کے ایک سنیئر رکن کو ہلاک کیا ہے اور اس اقدام کے بعد القاعدہ اپنے خاتمےکے قریب پہنچ چکی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک امریکی اہلکار کا کہنا تھا کہ اللبّی کی ہلاکت کے بعد القاعدہ کے پاس اب ایسا کوئی دوسرا رہنما نہیں جو اللبّی کی مہارت کو چُھوتا بھی ہو اور اللبّی کا متبادل تلاش کرنے کے لیے القاعدہ کی قیادت کو بڑی تگ و دو کرنا ہوگی۔

واشنگٹن کا خیال ہے کہ پچھلے سال اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد اللبّی جو کہ لیبیا سے تعلق رکھنے والے عالم تھے، ایمن الزواہری کے بعد القاعدہ کے دوسرے بڑے رہنما بن گئے تھے۔

امریکی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اللبّی القاعدہ کے پرانے ارکان میں سے تھے اور مذہبی عالم ہونے کی بناء پر انہیں فتوے جاری کرنے سے لے کر پاکستان میں موجود القاعدہ کے آپریشنز کے لیے رہنمائی فراہم کرنے کا اختیار تھا۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شام کے مشرق میں واقع علاقے عیسو خیل میں پیر کو ہونے والے ڈرون حملے میں ایک عمارت پر دو میزائل داغے گئے تھے۔

پاکستانی سیکیورٹی حکام کے مطابق پہلا میزائل کے نتیجے میں تین شدت پسند ہلاک ہوئے اور بعد میں جب ان کے ساتھی وہاں جمع ہوئے تو ایک اور میزائل گرا جس میں بارہ لوگ مارے گئے۔

اس ڈرون حملے پر پاکستان نے ناراضگی کا اظہار کیا اور منگل کو ہی پاکستانی وزارت خارجہ نے امریکی سفارتخانے کے اہلکار کو طلب کرکے اس پر باضابطہ احتجاج بھی ریکارڈ کرایا۔

پاکستانی وزارت خارجہ نے امریکہ سے ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں حالیہ دنوں کے دوران ڈرون حملوں میں تیزی آئی ہے اور پچھلے دو ہفتوں کے دوران آٹھ ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔

پاکستان میں ڈرون حملوں میں 2008ء میں امریکی صدر باراک اوباما کے اقتدار سنبھالنے کے بعد تیزی آئی ہے جن میں سیکڑوں لوگ مارے جاچکے ہیں۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر اوباما ہر حملے کی بذات خود منظوری دیتے ہیں۔ ڈرون حملوں میں مرنے والوں میں القاعدہ اور طالبان کے رہنماؤں کے علاوہ دوسرے شدت پسند گروہوں کے ارکان اور عام شہری بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں