’امریکی سفارتکار کی دفترِ خارجہ طلبی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’امریکی سفارتکار کو بتایا گیا کہ پاکستانی سرزمین پر ڈرون حملے غیر قانونی ہیں‘

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے امریکی سفارتکار رچرڈ ہوگلینڈ کو طلب کر کے پیر کو ہونے والے ڈرون حملے پر سخت احتجاج کیا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پیر کو ڈرون حملے میں القاعدہ کے نائب سربراہ ابو یحییٰ اللیبی کو ہدف بنایا گیا تھا۔

ڈرون حملے کا ہدف القاعدہ کے اہم رہنما تھے

امریکی حکام کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے القاعدہ رہنما بھی شامل ہیں کہ نہیں۔

منگل کو پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں پر ڈرون حملوں پر حکومتِ پاکستان کی جانب سے سخت تشویش کا اظہار کیا گیا۔

یاد رہے کہ پیر کو پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیارے کے حملے میں کم سے کم پندرہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

یہ حملہ تحصیل میر علی سے تین کلومیٹر دور جنوب کی جانب واقع گاؤں عیسو خیل میں کیا گیا جہاں حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں ایک مکان اور وہاں آنے والے ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔

بیان کے مطابق امریکی سفارتکار کو بتایا گیا کہ پاکستانی سرزمین پر ڈرون حملے غیر قانونی ہیں۔ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔

وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی سفارتکار رچرڈ ہوگلینڈ کو مزید بتایا گیا کہ پارلیمان نے متفقہ طور پر ڈرون حملے بند کرنے کی قرارداد منظور کی تھی۔

دفترِ خارجہ نے پشاور میں امریکی سفارتکار سے غیر قانونی اسلحہ برآمد ہونے پر امریکی سفارکار رچرڈ ہوگلینڈ سے سخت احتجاج کیا۔

یاد رہے کہ پیر کو پشاور میں امریکی سفارتکار کی دو گاڑیوں کو روکا گیا اور امریکی سفارکاروں کے پاس سے غیر قانونی اسلحہ برآمد کیا گیا جس کو پولیس نے قبضے میں لے لیا۔

دفترِ خارجہ نے امریکی سفارکار کو یاددہانی کرائی کہ سفارتکار کا غیر قانونی اسلحہ رکھنا ناقابلِ قبول ہے۔

اسی بارے میں